لاہور ہائیکورٹ نے مصالحتی سنٹرز کی 3 برس کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

لاہور(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈا ٹ کام) لاہور ہائیکورٹ نے مصالحتی سنٹرز کی 3 برس کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی، تین برسوں کے دوران پنجاب کے مصالحتی سنٹرز میں 1 ہزار 250 کیسز موصول ہوئے، مصالحتی سنٹرز نے 598 کیسز میں مصالحت کیساتھ فیصلے کیے، جبکہ 263 کیسز میں مصالحت میں ناکامی ہوئی۔آئی این پی کے مطابق پنجاب کے مصالحتی سنٹرز کی 2017 سے 2020 تک کی کارکردگی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ کو موصول ہوگئی،

مصالحتی سنٹرز کے جج راجہ زاہد ضمیر اور نبیلہ عامر نے 3 برسوں کی کارکردگی رپورٹ ہائیکورٹ کو بھجوائی ہے جس کے مطابق تین برسوں کے دوران پنجاب کے مصالحتی سنٹرز میں 1 ہزار 250 کیسز موصول ہوئے، مصالحتی سنٹرز نے 598 کیسز میں مصالحت کیساتھ فیصلے کیے، جبکہ 263 کیسز میں مصالحت میں ناکامی ہوئی۔رپورٹ کیمطابق فریقین کی عدم دستیابی کے باعث 317 کیسز مصالحتی سنٹرز سے واپس متعلقہ عدالتوں کو بھجوائے گئے، ثالث راجہ زاہد ضمیر 3 سال میں 629 کیسز میں سے 318 کیسز میں مصالحت کروانے میں کامیاب ہوئے۔

مصالحتی سنٹر کے جج راجہ زاہد ضمیر کو موصول کیسز میں سے 116 مقدمات میں مصالحت نہ ہو سکی، ثالث راجہ زاہد ضمیر نے فریقین کی عدم دستیابی کے باعث 160 کیسز واپس متعلقہ عدالتوں کو بھجوائے، مصالحتی سنٹر کی جج نبیلہ عامر 621 کیسز میں سے 280 مقدمات میں مصالحت کروانے میں کامیاب ہوئیں، ثالث نبیلہ عامر کو موصول ریفرنسز میں سے 147 مقدمات میں مصالحت نہ ہو سکی، جج نبیلہ عامر نے 157 مقدمات فریقین کی عدم دستیابی کے باعث واپس متعلقہ عدالتوں کو بھجوا دیئے

۔Sahafe.com.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں