عمران خان کا نواز اور زرداری کے نام اہم پیغام!

کراچی(مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بینکاروں کے وفود سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھوں، یہ لوگ پہلے دن سے بلیک میل کر رہے ہیں، کرپٹ افراد میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں این۔ آر۔ او، لیکن اگر میں نے پرویز مشرف کی طرح نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دیا تو قوم مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرے گی، لوگ جانتے ہیں میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لئے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے، کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، ایک اندازے کے مطابق 10 سے 12 ارب کی منی لانڈرنگ کی جاتی ہے۔صباح نیوز کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں جتنی جلدی ہوحکومت گر جائے، پہلے دن سے یہ حکومت گرانے کا راگ الاپ رہے ہیں، انہوں نے پہلے دن مجھے تقریر نہیں کرنے دی اور ان لوگوں نے ایک دن بھی مجھے حکومت نہیں چلانے دی، یہ لوگ جمہوریت نہیں لوٹا ہوا مال بچانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اب بھی اس لئے سب اکٹھے ہیں کیوں کہ یہ سب ڈرے ہوئے انہیں پتہ ہے ہمیں بیرون ملک سے انفارمیشن آ رہی ہے، ہم نے ابھی تک ان کے خلاف ایک کیس نہیں بنایا، یہ ایک دوسرے کے بنائے گئے مقدمات بھگت رہے ہیں، نیب کے اندر جو کیسز دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، ہم غیرضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، حکومت کی 30 فیصد ایکسپورٹ بڑھ گئی ہیں، ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ملکی حالات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ کا مزید کہنا تھا کہ پورے سارے سال میں جو ٹیکس اکٹھا ہوا اس میں آدھا پاکستان کا ٹیکس قرضوں کا سود دینے میں چلا گیا، قرضوں کی وجہ سے ملک مشکل حالات میں ہے، ہماری کوشش ہے کہ اخراجات کم اور آمدن میں اضافہ ہو، پاک فوج نے پہلی بار اپنے اخراجات کم کی، تاجروں کی مدد کے بغیر ہم قرضوں سے جان نہیں چھڑوا سکتے، بزنس کمیونٹی سے مل کرمشکل حالات سے باہرنکلنا ہے انہوں نے کہاکہ ‘گھر میں کوئی چوری کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے، کرپٹ لوگوں کو سزا نہ ملے تو کرپشن بڑھ جاتی ہے، مجھے کہا جارہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھوں لیکن کرپٹ عناصر کو سزائیں دیئے بغیر ملک کا تحفظ ممکن نہیں اور کرپشن کے ہوتے ہوئے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔’عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘معیشت کے استحکام کے لیے صنعتوں کو ترقی دینا ہوگی، ہم غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، ملکی آمدن بڑھانے کے لیے تاجروں سے مل کر اقدامات اٹھا رہے ہیں اور بیرون ملک سے قانونی ذرائع سے ترسیلات زر منگوا رہے ہیں۔’وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سندھ میں کبھی کسی نے گورنر راج کی بات نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس کے وزیر اعظم کی کوئی فیکٹری یا کاروبار نہیں، قوم جانتی ہے کہ میرا جینا مرنا ااس ملک کے ساتھ ہے، میرا کوئی پیسہ یا جائیداد ملک سے باہر نہیں اس لیے لوگ جانتے ہیں کہ میں جو بھی کر رہا ہوں اپنے ملک کے لیے کر رہا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں شبر زیدی کیساتھ مل کر ایف بی آر میں ریفارمز کروں گا۔ بزنس چلے گا تو ملک میں سرمایہ کاری ہوگی۔ اگر ہم سب ٹیکس نہیں دیں گے تو تھوڑے سے لوگوں پر بوجھ پڑے گا۔ ہمارا کام بزنس کمیونٹی کی مدد کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں