شہباز شریف اپنے کاموں کی فہرست لے آئیں، پرویز خٹک کا مناظرے کا چیلنج

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف اپنے کاموں کی فہرست لے آئیں، ن لیگ کی کارکردگی بہتر ہوتی تو عوام پنجاب میں مسترد نہ کرتے، اپوزیشن مہنگائی مہنگائی کر کے صرف ڈرامہ کر رہی ہے، ان کی اور ہماری کارکردگی میں زمین آسمان کا فرق ہے،مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا، کارخانے چلیں گے ،مہنگائی نہیں بڑھے گی تو ملک رک جائے گا،خالی سرکاری نوکریوں سے روز گار نہیں ملتا،ہر کوئی سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتا کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا،ملک میں لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں، اچھا رہن سہن ہے، بتائیں کہاں غربت ہے؟خیبرپختونخوا میں کوئی کچا گھر دکھا دیں پھر میں مان جاؤں گا کہ ملک پیچھے جا رہا ہے۔پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی بجٹ پر عام بحث کے دوران وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک مشکلات کا شکار تھا، وزیراعظم عمران خان نے ملک کو مشکلات سے نکالا، الزامات لگانے والے اپنے گریبان میں جھانکتے نہیں، آئی ٹی کی بدولت ساری دنیا ترقی کر رہی ہے، ماضی کی حکومتوں نے آئی ٹی پرتوجہ نہیں دی، ملک تعمیراتی کاموں سے ترقی کرتے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ امریکا، یورپ سمیت پوری دنیا میں مہنگائی ہے، اپوزیشن کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا، اپوزیشن والے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگتا ہے، وزیراعظم کے درست فیصلوں سے معیشت کو نقصان نہیں پہنچا، موجودہ حکومت نے کسان کو بغیر سود قرض کی سہولت دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک نوکریاں دینے سے نہیں چلتے، ہر کوئی سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی کی وجہ سے دو تہائی اکثریت ملی، 38 سال میں کسی کنٹریکٹ میں حصہ نہیں لیا، چاہتا تو اربوں کما سکتا تھا۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہاکہ مجھ پر بھی پانچ سال تنقید کی گئی۔ دو سال اور تنقید کریں گے۔ یہ ہم پر ایسے تنقید کرتے ہیں جیسے ان کے دور میں دودھ شہد کی نہریں بہتی تھیں۔ملک مقروض نہ ہوتا تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے۔دو سال بعد دیکھیں گے کہ قرضوں اور آئی ایم ایف سے جان چھوٹے گی۔ان کے دور میں کارخانے بند تھے آج چل پڑے ہیں۔ہماری حکومت نے انہیں مراعات دیں تو معیشت کا پہیہ چل پڑا۔ان کو عوام کی کوئی فکر نہیں تھی یہ تو حکومت میں مزے لینے آئے تھے۔یہ عوام کی خدمت کے لیے نہیں آتے حکمران بننے آتے ہیں۔جب ہم آئے تو زرمبادلہ کے ذخائر5 ارب ڈالر تھے اس سے ملک ایک ماہ بھی نہیں چل سکتا۔اس وقت قومی خزانے میں 25 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔کنسٹرکشن کو سابقہ دور میں کوئی مراعات نہیں دی گئی۔خالی سرکاری نوکریوں سے روز گار نہیں ملتا۔ہر کوئی سرکاری نوکری چاہتا ہے کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا۔ملک میں لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں اچھا رہن سہن ہے۔ بتائیں کہاں غربت ہے۔ہمارے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں پھر میں مان جاؤں گا کہ ملک پیچھے جا رہا ہے۔مہنگائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔غربت کا سارا ڈرامہ ہے، ہمارے صوبے میں دکھا دیں چیلنج کرتا ہوں۔پرویز خٹک کے غربت سے متعلق جملوں پر حکومتی اراکین نے قہقہے لگائے۔حکومتی رکن نے کہاکہ کرک میں غربت ہے، پرویز خٹک نے کہاکہ وہاں ہو گی ملک میں کوئی غربت نہیں ہے۔عمران خان کے صحیح فیصلوں سے ملک کی اکانومی بہتر ہوئی۔مہنگائی ہوگی تو ملک چلے گا کارخانے چلیں گے زراعت ہوگی،مہنگائی نہیں بڑھے گی تو ملک رک جائے گا، میں چیلنج کرتا ہوں میرے صوبے میں غریب ڈھونڈ کر دکھائیں۔پرویز خٹک کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نے لقمے دیئے تو انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے میری بات نہیں سننی تو باہر چلی جائے۔میں نے اپنی تقریر پوری کرنی ہے۔شہباز شریف کی 20 سالہ حکومت سے میری پانچ سال کی کارکردگی بہتر ہے۔نواز شریف کی کارکردگی بہتر ہوتی تو عوام انہیں مسترد کرتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں