اگلے 90دنوں میں …..کا فیصلہ ہو جائیگا؟ شیخ رشید کا ایک اوربڑا دعوی!

لاہور(مانیٹرنگ نیوز‘ صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جس دن ضمیر پربوجھ ہوا، کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی خود ہی استعفیٰ دے دوں گا‘ بچوں کو حادثات سے بچانے کے لیے اسکول بند کیے جاتے‘19جولائی کو اگلی ٹرین چلانے کے بعد پرانی ٹرینیں بحال کریں گے‘ اگلے 90 دنوں میں سیاسی اونٹ کی کروٹ کا فیصلہ ہوجائے گا کہ نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شہباز، احسن اقبال، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے کیسز کا فیصلہ ہونا ہے‘ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ رہ بھی سکتا ہے کیونکہ خفیہ ووٹوں میں کچھ بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ ریل گاڑیوں کے حادثات کا میں ذمہ دار ہوں ریلویٹریک 1861 میں پڑے ہیں جن پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ہے سگنل کے نظام پر لاگت آٹھ ارب سے بڑھ کر 32 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ ایم ایل ون آئے تو پھاٹک ختم ہوجائیں گے۔آئی این پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور شہباز شریف میں اختلاف ہے مریم نواز نے مسلم لیگ ن کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے اس سے نوازشریف مزید پھنس جائیں گے مسلم لیگ ن کی عدلیہ پر حملوں کی ایک تاریخ ہے، ابھی بھی ان کے یہ لوگ گواہی دینے کے لیے سامنے نہیں آئیں گے۔ نواز شریف کی لڑائی اصولوں کے لیے نہیں بلکہ لندن جانے کے لیے ہے۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ 1985 کی اسمبلی غیر جماعتی تھی لیکن اس کی کارکردگی سب سے اچھی تھی کہ اراکین اچھی طرح تیاری کرکے آتے تھے حلقے کے لوگ آٹا، چینی جیسی ضرورت کی بنیادی اشیا کے مہنگا ہونے کی شکایت کرنے آتے ہیں لیکن یہ حکومت کی مجبوری ہے لوگوں کے تحفظات سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا ہے۔شیخ رشید کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہم مزاج ہیں کہ سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں، افغانستان سے فوج کا نکلنا ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے الیکشن کے لیے بہت اہم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں