شیخوپورہ،چاربچوں کو نہر میں پھینکنے والے سنگدل باپ کے تھانہ پہنچتے ہی کیس کانیا پہلو سامنے آگیا

شیخوپورہ (مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)چار بچوں کو شیخوپورہ کی سب سے بڑی بھکھی نہر میں پھینکنے والے سنگدل باپ محسن کے تھانہ بھکھی میں پہنچتے ہی ایک کیس کا ایک پہلو سامنے آگیا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنی بیوی مصباح پر بد چلنی کا الزام عائد کر دیا اور کہا ہے کہ اس نے بیوی کے رویہ کی وجہ سے مشتعل ہو کر بچوں کو نہر میں پھینک دیا ہے،نہر میں اس وقت پانی کا شدید پریشر ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ چاروں بچوں کی لاشیں کسی دور دراز کے علاقہ میں پہنچ گئی ہوں گی ان ذرائع کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ملزم محسن نے بتایا ہے کہ وہ ضلع فیصل آباد تھانہ کھڑیانوالہ کے گاں چک نمبر 74 آر بی بنڈالہ کا رہائشی ہے اس کی شادی شیخوپورہ کے قصبہ فاروق آباد کے محلہ گورونانک پورہ میں ایک شخص عبدالقیوم کی بیٹی مصباح سے ہوئی تھی‘آئی این پی کے مطابق جس کے بعد ان کے ہاں 4 بچے ہوئے اس نے الزام لگایا کہ میری بیوی نے بعداذاں اپنے بہنوئی اور میرے ہم زلف ریاض کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کر لیے جس سے میں نے اسے کئی بار منع بھی کیا وہ دونوں موبائل فون پر کالیں اور میسج کرتے تھے میرے منع کرنے پر گھر میں جھگڑا ہو جاتا 23 اپریل 2021 کو 8 بجے رات میں اپنے بچوں 7 سالہ ذوالقرنین 4 سالہ حوریہ 2 سالہ نمرہ اور ایک سالہ عروہ کو غصہ کے عالم میں شیخوپورہ روڈ پر نہر بھکھی کے پل پر لایا اور ان کو نہر میں پھینک دیا ان ذرائع کے مطابق ڈی پی او غلام مبشر میکن نے اس کیس کی تفتیش کے لیے ایڈیشنل ایس پی صدر اور ڈی ایس پی اینٹی آرگنائز کرائم سیل کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے اور بچوں کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122 کے غوطہ خوروں کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں اس وقت بچوں کی تلاش جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں