اسلام آباد میں کتنیفیصدبچے منشیات کے عادی ہیں؟ذیلی کمیٹی برائے انسداد منشیات میں انکشاف‘جان کر آپ کے بھی پیروں تلے زمین نکل جائیگی

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ وفاقی دارالحکومت میں رہنے والے آدھے سے زیادہ بچے منشیات کے عادی ہیں۔ اسلام آباد میں 53 فیصد بچے منشیات کے عادی ہیں،40 فیصد منشیات کے استعمال کرنے والے 11سے17 سال کی عمر کے درمیانی حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن میں سے63 فیصد بچوں کو نشہ کی عادت دوستوں اور فیلوز سے ہوئی۔صباح نیوز کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمہ کیلئے سخت سزائیں نافذ کرنے اور ملک میں انسداد منشیات عدالتوں کی تعدادمیں اضافہ کی ضرورت ہے۔کنونیئر کمیٹی سینیٹر لیفٹینٹ جنرل(ر)عبدالقیوم نے کہاکہ ملک کی سا لمیت کیلئے ہماری حکومت کو افواج کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے تعاون کی ضرورت رہے گی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلا س کنونیئر کمیٹی سینیٹر لیفٹینٹ جنرل(ر)عبدالقیوم ہلال امتیازکی زیر صدارت قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یونیورسٹیوں کے دورے کے دوران نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے چینلجز اور ادارے کی جانب سے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے اٹھائے جانے والے ٹھوس اقدامات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر تحقیقی رپورٹ پر تفصیلی بحث ہوئی۔ ملک کے مختلف اداروں خاص طور پریونیورسٹیوں میں نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے روک تھام کے نتیجے میں درپیش مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے تعلیمی ادارے قائدا عظم یونیورسٹی کا دورہ کیا گیا۔ ڈین سوشل سائنسز قائد اعظم یونیورسٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ انسداد منشیات کے حوالے سے کچھ ماہ قبل وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے بھی جامعہ کا دورہ کیا تھا جس سے حکومت کا اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف مثبت رجحان سامنے آتا ہے۔ جامعہ کے پروفسیر ڈاکٹر عمران صابر کی طرف سے پیش کی جانے والی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 53 فیصد بچوں کے منشیات کے عادی ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 40 فیصد منشیات کے استعمال کرنے والے بچے اور نوجوان 11 سے17 سال کی عمر کے درمیانی حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن میں سے63 فیصد بچوں کو نشہ کی عادت دوستوں اور فیلوز سے ہوئی۔ رپورٹ کے آخر میں سفارشات بیان کرتے ہوئے ملک میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمہ کیلئے قانون سازی کی اہمیت پر زور دیا اور سخت سزائیں نافذ کرنے اور ملک میں انسداد منشیات عدالتوں کی تعدادمیں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔محکمہ انسداد منشیات فورس سے بریگیڈیئر مبشر کاظمی نے منشیات کے استعمال کو بہت گھمبیر مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انسداد منشیات اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کر رہی ہے۔اور انسداد منشیات فورس اس وقت 6 سرحد پار پوائنٹ،16بندرگاہوں اور 29 پولیس اسٹیشنز پر کام کر رہی ہے اور اب تک70 ہزار کیس رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی روک تھام کیلئے ہماری عدالتیں بھی مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے ملک کی نوجوان نسل کو ملک کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے اس مہم میں ساتھ دینے اور مثبت کردار ادا کرنے کی ہدایت جاری کی اس کے ساتھ ساتھ انسداد منشیات کیلئے موجود ہ فنڈز اور ذرائع نا کافی قرار دیتے ہوئے فنڈز کو بڑھانے کی درخواست بھی کی۔ایچ ای سی کے نمائندہ ڈاکٹر فتح محمد مری نے منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے سفارشات بیان کرتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں میں انتظامی عمل، نظم و ضبط اور شعور کے ساتھ ساتھ باقاعدہ پالیسی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر جنرل (ر)عبدالقیوم ہلال امتیاز نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی سرمایہ قرار دیا اور ان اداروں میں منشیات کے خاتمے پر کام کرنے پر بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے اقوال کی روشنی میں نوجوانوں کو ان کا تعلیمی کردار ادا کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرحد پار ممالک کو منشیات فروشی کیلئے پاکستان کی سرحدوں کے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گااور ملک کی سا لمیت کیلئے ہماری حکومت کو افواج کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے تعاون کی ضرورت رہے گی۔کنونیئر کمیٹی نے انسداد منشیات کے حوالے سے وسائل و ذرائع بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھانے کا یقین دلایا۔ وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے جامعہ کی باونڈری وال کو ضروری قرار دیتے ہوئے جامعہ کے اندر موجود غیر قانونی قبضہ کو ختم کروانے کی گزارش کی تاکہ جامعہ کے اندر سے غیر متعلقہ افراد کی آمد و رفت کو روک کر اس مسئلہ پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم سینیٹر کنونیئر کمیٹی نے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کمیٹی کی طرف سے سفارشات میں شامل کر دیا کی سینیٹ میں اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ کمیٹی کو مزید بتایا کہ گیا کہ انسداد منشیات پالیسی حال ہی میں کیبنٹ نے منظور کی ہے اور جلد ہی تعلیمی اداروں میں بھی انسداد منشیات کے حوالے سے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔اس کے علاوہ مختلف پروگرام بھی مرتب کیے جارہے ہیں۔ جن کے ذریعے منشیات کی روک تھام پرکام کیا جائے گا۔ کنونیئر کمیٹی نے نوجوانوں کو سزا دینے کی بجائے حوصلہ افزائی کے ساتھ راہ راست پر لانے کے عمل پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے جس پر قوم نے مل کر کام کرنا ہے۔ تاہم ممبر ہائیر ایجو کیشن کمیشن نے تمام تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے ایکشن پلان بنانے کی گزارش کی تاکہ ہر یونیورسٹی کے مسائل کے مطابق اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کوشش کی جائے۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز بریگیڈیئر مبشر کاظمی، ایچ ای سی ممبر ڈاکٹر فتح محمد مری، وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کے علاوہ وزارت انسداد منشیات اور قائد اعظم یونیورسٹی کے دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں