وفاقی حکومت کے تحت عشرہ رحمت اللعالمینؐ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز،اتھارٹی کے قیام کا اعلان

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)وفاقی حکومت کے تحت عشرہ رحمت اللعالمینؐ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ے کہ نبی آخر الزماں ؐ کی سیرت طیبہ پر عمل ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، عشرہ رحمت اللعالمینؐ کے آغاز پر فخر محسوس کررہا ہوں،کم زور انسان انصاف اور طاقت ور این آر او چاہتا ہے، مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کریگا،میں جنہیں رول ماڈل سمجھتا تھا ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا، ہمارے رول ماڈلز اور سیدھے راستے میں زمین آسمان کا فرق تھا، جیسا میں آج ہوں ویسا پہلے کبھی نہیں تھا، روزانہ اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتا ہوں،18سال کی عمر میں پہلی مرتبہ انگلینڈ گیا، موجودہ دور میں نوجوان نسل دبا ؤکا شکار ہے،مغربی ممالک کا خاندانی نظام ہمارے سامنے تباہ ہوا۔ تو مغربی کلچراپنانیسے ہمارامعاشرہ کیسے بچ سکتاہے؟۔اتوار کووفاقی حکومت کے تحت عشرہ رحمت اللعالمین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے، اسلام آباد میں مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے دعائے مغفرت کروائی۔اسلام آباد میں عشرہ رحمت اللعالمینؐ کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب سے قبل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے دعا کروائی۔ وزیراعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ؐ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد سے بھی آگاہ کردیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اس کے ذریعے سیرت نبی ؐ بچوں اوربڑوں کو پڑھانے کا طریقہ کار طے کریں گے، ہم نے اتھارٹی کے چیئرمین کی تلاش شروع کردی ہے، دنیا کے بہترین مذہبی اسکالرز کو چیئرمین بنایا جائے گا، جو اسلام سے متعلق دنیا کو آگاہ کرے گا، اتھارٹی کے ذریعے اسکولوں کے نصاب کی نگرانی کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے 12 ربیع الاول دھوم دھام سے منانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت خوشی کا دن ہے، رحمت اللعالمین اتھارٹی دنیاکوبتائیگی اسلام کیا ہے، بچوں کواپنے کلچرسے متعرف کرانے کیلئے کارٹون سیریز متعارف کرائی جائیں گی، اتھارٹی کا ایک ممبر میڈیا پر نشر ہونے والے مواد پر نظر رکھے گا۔وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہمیں آج نبی کریم ؐ کا یوم ولادت منانے کے لیے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں اور اپنی قوم کے نوجوانوں سے بات کرنا چاہتا ہوں اور مجھے خوف ہے کیونکہ سوشل میڈیا اور جس طرف حالات جارہے ہیں اس لیے مختلف بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی زندگی سے شروع کروں گا کیونکہ جہاں میں آج ہوں ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، بڑا سوچا کہ اس پر بات کروں یا نہ کروں، پھر مجھے بشری نے کہا کہ ضرور کروں۔وزیراعظم نے کہا کہ میری والدہ نے ایک دعا سکھائی تھی کہ سونے سے پہلے دعا کرو کہ اللہ مجھے سیدھے راستے پر لگا تو ہم بہن بھائی بھی بچپن میں یہی دعا کرتے تھے لیکن میری تعلیم ایچیسن میں ہوئی جہاں ہمارے رول ماڈل کوئی اور تھے جو ہمیں کہا گیا تھا سیدھا راستہ ہے اور جو رول ماڈل تھے، اس میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔انہوں نے کہا کہ فلمی اداکار، پوپ اسٹار، کھلاڑی اور گلیمرس والے لوگ تھے اور ان کی زندگیاں بالکل مختلف تھی جن کے بارے میں ہمیں کہا گیا تھا کہ سیدھے راستے پر چلا، سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ یہی مسئلہ پڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پہلی دفعہ انگلینڈ گیا تو 18 سال کا تھا تو وہاں جو ماحول دیکھا وہ زمان پارک سے بالکل مختلف ماحول تھا اور اس وقت جو رول ماڈل تھے ہم نے ان کی پیروی کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اس وقت تک نہیں سوتا تھا جب تک پورے دن کے کاموں کا جائزہ نہ لیتا تھا جو میں سمجھتا ہوں ایک صفت ہے، دن میں کیا کھویا کیا پایا، ہمیشہ اپنا تجزیہ کرتا تھا تو جو رول ماڈل تھے اور ان کو قریب سے دیکھا تو مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آنی شروع ہوئی جو ہم نماز میں کہتے ہیں کہ اللہ ان کے راستے پر چلا جن کو آپ نے نعمتیں بخشی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب 625اور 636اور 637کے درمیان آیا تھا، یہ کبھی نہیں ہوتا لیکن اگر یورپ میں یہ ہوتا کتنی کتابیں لکھی جاتیں اور فلمیں بنی ہوتی۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں اتنی دیر بعد پتہ چلا تو یہا ں بیٹھے ہوئے اکثر لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ کیا ہوا تھا، وہ دنیا کی تاریخ کا بہت فینومینا تھا، جس کو آپ سمجھ نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ 625میں جنگ بدر میں 313لوگ ہوتے ہیں، 636اور 637میں دو سپر پاورز نے 11اور 12سال میں گھٹنے ٹیک دیے، یہ کیا ہوا تھا، اس پر کوئی تحقیق ہوئی، کوئی ہمیں بتایا گیا، ہمارے بچوں کو پتہ ہے کہ ہوا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ اس کے پیچھے جائیں گے تو ایک چیز پتہ چلے گی کہ نبی ؐوہ شخصیت تھے جو یہ انقلاب لے کر آئے تھے، ایک تو ان کی شخصیت تھی دوسرا مدینے کی ریاست تھی جو ان کی سنت تھی، تو تب مجھے پتہ چلا کہ اللہ کیوں کہتے ہیں کہ ان کی زندگی سے سیکھو۔انہوں نے کہا کہ اللہ ہمیں اس لیے حکم کر رہا ہے کہ اگر اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کروگے تو آپ کا ملک اٹھ جائے گا، آپ اگر ان کے کردار کو اپنانے کی کوشش کروگے تو آپ اوپر جائیں گے۔تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم ربیع الاول مناتے ہیں، پٹاخے اور آتش بازی کرتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا ان کی زندگی پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں کرتے، یہ ایسے ہی ہے کہ ہم قرآن مجید کو گھر میں رکھا ہوا اور سارے اس کو بڑے ادب سے اٹھا رہے ہیں پڑھ نہیں رہے ہیں کہ اس کے اندر کیا لکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حضورؐکے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے کردار سے تو سیکھیں، کیا ان کے کردار پر چل رہے ہیں یا نہیں، اللہ کا حکم ہے کہ ان کی سنت پر عمل کرو۔ان کا کہنا تھا کہ حضورؐ کی ساری محنت انسانوں کے لیے تھی، دنیا کی بڑی جمہوریتیں ہیں وہاں کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ خلیفہ وقت حضرت علی ایک یہودی شہری سے عدالت میں کیس ہار جاتے ہیں، حضرت علی کا مقام دیکھیں کتنا بڑا تھا لیکن جج کہتا ہے میں آپ کی بیٹی کی گواہی قبول نہیں کرتا، یہ انسانیت کا نظام تھا اور سب انسان برابر تھے، ایک یہودی کو بھی ملک کے سربراہ سے وہی انصاف مل رہا تھا۔سیرت نبویؐ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انسانوں کو اکٹھا کرنیکا تصور تھا، قیادت کا پیمانہ دیا کہ ایک قائد انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے، تقسیم نہیں کرتا نفرتیں پھیلا کر، یہ نہیں کہتا ہے کہ ہندو سب سے عظیم قوم ہے باقی سب نیچے ہیں، انصاف سارے انسانوں کے لیے ہے۔وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ 3 ربیع الاول سے 13 ربیع الاول نے پروگرام ہوں گے اور یہ پروگرام اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حضورؐ کی دنیا میں تشریف آوری کو پاکستان کے عوام روایتی احترام سے مناتی ہے لیکن حکومت پاکستان کا صرف رسمی سا تعلق رہا لیکن اس مرتبہ وزیراعظم عمران خان خود اس مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک مہینے میں متعدد بات بذات خود اپنے ملیٹری سیکریٹری اور اسٹاف کے ذریعے انتظامات اور تقریبات کے حوالے سے معلومات رہتے رہے جو عالم اسلام اور اس ملک کے لیے بھی انتہائی نیک شگون ہے۔سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ابدی سعادت اور نجات چاہتا ہے تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ حضورؐ کی زندگی کو پڑھے اور اس کی پیروی کرے، نجات اور ابدی سعادت کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ اور سنت پر عمل نجات کا ذریعہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں