مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحابہ ؓ کا ایثار (قسط۔26)
اور تم لوگ نماز کو قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ جل شانہ کو قرضہ حسنہ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لئے ذخیرہ بنا کر آگے بھیج دو گے اس کو اللہ جل شانہ ُ کے پاس جا کر اس سے بہت بہتر اور ثواب میں بڑھا ہوا پاؤ گے اور اللہ تعالیٰ سے گناہ معاف کر ا تے رہو‘ بیشک اللہ جل شانہ ُ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
(ف)۔اس کو اللہ جل شانہ ُ کے پاس جا کر اس سے بہتر پانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دنیا کی چیزیں خریدنے میں خرچ کیا جا تا ہے یا دنیوی ضرورتوں میں کرچ کیا جا تا ہے اور اس کا بدل دنیا میں ملتا ہے‘ مثلاً ایک روپیہ کے دو سیر گندم دنیا میں ملتے ہیں‘آخرت کے بدل کو اس پر قیاس نہیں کرنا چاہیے بکلہ آخرت میں جو بدل ان چیزوں کا ملتا ہے جو اللہ کے راستہ میں خرچ کا جائیں‘وہ مقدار کے اعتبار سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی بدر جہاز ائد اس بدل سے ہو گا جو دنیا میں اس پر لتا ہے‘ چنانچہ آیت نمبر7کے ذیل میں گذر چکا ہے کہ اگر طیب مال سے نیک نیتی کے ساتھ ایک کھجور بھی صدقہ کی جائے تو حق تعالیٰ شانہ ُ اس کے ثواب کو اُحد پہاڑ کے برابر فرما دیتے ہیں۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں