مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحابہ ؓ کا ایثار (قسط۔25)
اگر تم اللہ جل شانہ کو اچھی طرح (یعنی اخلاص سے) قرض دو گے تو وہ اسکو تمہارے لئے بڑھاتا چلا جائیگا اور تمہارے گناہ بخش دیگا اور اللہ جل شانہ بڑی قدر کرنیوالا ہے (کہ تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کر لیتا ہے) اور بڑا برد بار ہے (کہ بڑے سے بڑے گناہ پر بھی مواخذہ میں جلدی نہیں کر تا) پوشیدہ اور ظاہر اعمال کا جاننے والا ہے‘زبردست ہے حکمت والا ہے۔
(ف)۔ آیا ت میں نمبر5اور نمبر26و نمبر27پر اس قسم کے مضامین گذر چکے ہیں‘ یہ اللہ جل شانہ کا خاص لطف و کرم ہے کہ ہماری خیر خواہی اور بندوں پر کرم کی وجہ سے جو چیزیں ان کیلئے اہم اور ضروری ہیں ان کو بار بار تاکید کے ساتھ فرمایا جا تا ہے اور ہم لوگ ان آیا ت کو بار بار پڑھتے ہیں اور مطمئن ہو جا تے ہیں کہ بہت ثواب قرآن پاک کے پڑھنے کا مل گیا یہ کرم کا احسان اور انعام ہے کہ وہ اپنے پاک کلام کے محض پڑھنے پر بھی ثواب عطا فرمائے‘لیکن یہ پاک کلام محض پڑھنے کیلئے تو نازل نہیں ہوا‘ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے پاک ارشادات پر عمل بھی تو ہونا چاہیے‘ ایک چیز کو مالک الملک اپنا آقا اپنا محسن اپنا مربی اپنا رازق اپنا خالق بار بار ارشاد فرمائے اور ہم کہیں کہ ہم نے آپ کا ارشاد پڑھ لیا بس کا فی ہے یہ ہماری طرف سے کتنا سخت ظلم ہے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں