مال خرچ کرنے کے فضائل میں

خرچ کرنے پر بدلہ (قسط۔3)
حکیم ترمذی ؒ نے حضرت زبیر ؓ سے ایک مفصل قصہ نقل کیا جو احادیث کے ذیل میں 12پر مفصل آ رہا ہے‘علامہ سیوطی ؒ نے درمنشور میں اس کو حکیم ترمذی ؒکی روایت سے مفصل نقل کیا ہے لیکن خود انہوں نے الی المصنوعۃ میں اس کو بہت مختصر طور پر ابن عدی کی روایت سے موضوعات میں نقل کیا ہے‘ حضرت ابوہریرہ ؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کر تے ہیں کہ روزانہ صبح کو دو فرشتے حق تعالیٰ شانہ ُ سے دعا کر تے ہیں‘ ایک دعا کر تا ہے‘ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما‘ دوسرا عرض کر تا ہے اے اللہ روک کے رکھنے والے کے مال کو ہلاک کر‘احادیث کے ذیل میں یہ حدیث نمبر2پر آ رہی ہے اور تجزبہ میں بھی اکثر آیا ہے کہ جو حضرات سخاوت کر تے ہیں اللہ جل شانہ ُ کے دربار سے فتو حات کا دروازہ ان کیلئے ہر وقت کھلا رہتا ہے اور جو لوگ کنجوسی سے جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں‘اکثر کوئی سماوی آفت بیماری‘مقدمہ‘چوری وغیرہ ایسی چیز پیش آ جا تی ہے جس سے برسوں کا اندوختہ دنوں میں ضائع ہو جا تا ہے اور اگر کسی کے دوسرے نیک اعمال کی برکت سے اور اس کی نیک نیتی سے اس پر کوئی ایسا خرچ نہیں پڑتا تو نالائق اولاد باپ کے اندوختہ کو جو اس کی عمر بھر کی کمائی تھی مہینوں میں برابر کر دیتی ہے‘حضرت اسما ء ؓ فرماتی ہیں کہ مجھ سے حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خوب خرچ کیا کر اور گن گن کر مت رکھ کر اللہ جل شانہ ُ تجھے بھی گن گن کر عطا کرے گا اور جمع کرکے مت رکھ کر اللہ جل شانہ ُ تجھ سے بھی جمع کر کے رکھنے لگے گا‘عطا کر جتنا تجھ سے ہو سکے۔ (مشکوٰۃ بروایۃ الشیخین) (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں