مال خرچ کرنے کے فضائل میں

خرچ کرنے پر بدلہ (قسط۔2)
کس قدر حق تعالیٰ شانہ ُ کا احسان ہے کہ اپنی خوشی سے نہ دینے کی صورت میں بھی اگر بندہ جبر سے لئے جانے میں بھی صبر کر لے تو اس کیلئے بھی اجر فرما دیا حالانکہ جب وہ حق تعالیٰ شانہ ُ کی عطا کی ہوئی چیز خوشی سے واپس نہیں کر تا‘جبراً اس سے لی جا تی ہے‘ تو پھر اجر کا کیا مطلب لیکن حق تعالیٰ شانہ ُ کے احسانات کا کوئی شمار ہو سکتا ہے‘ حضرت حسن ؓفرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے اس آیت شریفہ کے بارے میں فرمایا کہ تم جو کچھ اپنے اہل و عیال پر خرچ کر و بغیر اسراف کے اور بغیر کنجوسی کے‘ وہ سب اللہ کے راستہ میں ہے‘حضرت جابر ؓ حضور اقدس ﷺسے نقل کر تے ہیں کہ آدمی جو کچھ شرعی نفقہ میں خرچ کر ے اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا بدل ہے‘ بجز اس کے کہ جو تعمیر میں خرچ کیا ہو یا معصیت میں‘حضرت جابر ؓحضور اقدس ﷺ سے نقل کر تے ہیں کہ ہر احسان صدقہ ہے اور جو کچھ آدمی اپنے نفس پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے وہ صدقہ ہے اور جو کچھ اپنی آبرو کی حفاظت میں خرچ کرے وہ صدقہ ہے اور مسلمان جو کچھ (شریعت کے موافق) خرچ کر تا ہے اللہ جل شانہ ُ اس کے بدل کے ذمہ دار ہیں مگر وہ خرچہ جو گناہ میں ہو یا تعمیر میں۔(کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں