مال خرچ کرنے کے فضائل میں

خرچ کرنے پر بدلہ (قسط۔1)
آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے‘روزی کی وسعت عطا کر تا ہے اور جس کو چاہے روزی کی تنگی دیتا ہے اور جو کچھ تم (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کا بدل عطا کرے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
(ف)۔ یعنی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ شانہ ُ کی طرف سے ہے‘تمہارے خرچ کو روکنے سے فراخی نہیں ہو تی اور خرچ زیادہ کرنے سے تنگی نہیں ہو تی بلکہ اللہ کے راستہ میں جو خرچ کیا جائے اس کا بدلہ آخرت میں تو ملتا ہی ہے دنیا میں بھی اکثر اس کا بدل ملتا ہے‘ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑنے اللہ جل شانہ ُ کا یہ ارشاد نقل کیا‘ میرے بندو میں نے تم کو اپنے فضل سے عطا کیا اور تم سے قرض مانگا پس جو شخص مجھے اپنی خوشی اور رضا و رغبت سے دیگا میں اس کا بدل دنیا میں جلدی دونگا اور آخرت میں اس کیلئے ذخیرہ بنا کر رکھوں گا اور جو خوشی سے نہ دے گا بلکہ اس سے میں اپنی دی ہوئی چیز جبراً واپس لے لوں گا اور وہ اس پر صبر کرے گا اور ثواب کی امید رکھے گا‘ اس کیلئے میں اپنی رحمت واجب کردوں گا اور اس کو ہدایت یا فتہ لوگوں میں لکھوں گا اور اس کیلئے اپنی دیدار کو مباح کردوں گا۔(کنز)
(کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں