مال خرچ کرنے کے فضائل میں

حضرت ابوبکر ؓ کا غصہ میں صلہ رحمی کے ترک کا ارادہ کرنا (قسط۔8)
حضرت عثمان ؓ کا ساری رات جاگنا اور ایک رکعت میں پورا قرآن شریف پڑھ لینا بھی مشہور واقعہ ہے‘حضرت عمر ؓ بسا اوقات عشاء کی نماز پڑھ کر گھر میں تشریف لے جا تے اور گھر جا کر نماز شروع کر دیتے اور نماز پڑھتے پڑھتے صبح کر دیتے‘حضرت تمیم داری ؓ مشہور صحابی ہیں‘ایک رکعت میں تمام قرآن شریف پڑھنا اور کبھی ایک ہی آیت کو صبح تک بار بار پڑھتے رہنا ان کا معمول تھا‘حضرت شداد بن اوس ؓ سونے کے لئے لیٹتے اور ادھر ادھر کروٹیں بدل کر یہ کہہ کر کھڑے ہو جا تے کہ یا اللہ جہنم کے خوف نے میری نیند اڑا دی اور صبح تک نماز پڑھتے رہتے‘حضرت عمیر ایک ہزار رکعت نفل اور ایک لاکھ مرتبہ تسبیح روزانہ پڑھتے‘حضرت اویس قرنی ؒمشہور تابعی ہیں‘حضور ؐنے بھی ان کی تعریف فرمائی اور ان سے دعا کرانے کی لوگوں کو ترغیب دی‘کسی رات کو فرماتے کہ آج کی رات رکوع کرنے کی ہے اور ساری رات رکوع میں گذار دیتے‘ کسی رات فرماتے کہ آج کی رات سجدہ کی ہے اور ساری رات سجدہ میں گذار دیتے (اقامۃ الحجۃ) غرض ان حضرات کے واقعات رات بھر مالک کی یاد میں‘محبوب کی تڑپ میں گذار دینے کے اتنے کثیر ہیں کہ ان کا احاطہ نا ممکن ہے‘ یہی حضرات حقیقتاً اس شعر کے مصداق تھے۔
ہمارا کام ہے راتوں کو رونا یاد دلبر میں۔۔ہماری نیند ہے محو خیال یار ہو جانا
کاش حق تعالیٰ شانہ ُ ان حضرات کے جذبات کا ذرا سا سایہ اس ناپاک پر بھی ڈال دیتا۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں