مال خرچ کرنے کے فضائل میں

حضرت ابوبکر ؓ کا غصہ میں صلہ رحمی کے ترک کا ارادہ کرنا (قسط۔2)
حضرت صفوان بن معطل ؓ ایک بزرگ صحابی تھے جو قافلے کے پیچھے اسلئے رہا کر تے کہ راستہ میں گری پڑی چیز کی خبر رکھا کریں‘وہ صبح کے وقت جب اس جگہ پہنچے تو ایک آدمی کو پڑا دیکھا اور چونکہ پر وہ کے نازل ہونے سے پہلے حضرت عائشہ ؓکو دیکھا تھا اس لئے ان کو یہاں پڑا دیکھ کر پہچان لیا اور زور سے پڑھا‘ان کی آواز سے انکی آنکھ کھلی اور منہ ڈھانک لیا‘انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا‘یہ اس پر سوار ہو گئیں اور وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر لے گئے اور قافلہ میں پہنچا دیا‘ عبداللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا‘ اس کو تہمت لگانے کا موقع مل گیا اور خوب اس کی شہرت کی‘ اسکے ساتھ بعض بھولے مسلمان بھی اس تذکرے میں شامل ہو گئے اور اللہ کی قدرت اور شان کہ ایک ماہ تک یہ ذکر تذکرے ہو تے رہے‘ لوگوں میں کثرت سے اس واقعہ کا چرچا ہو تا رہا اور کوئی وحی وغیرہ حضرت عائشہ ؓ کی براء ت کی نازل نہ ہوئی‘حضور اقدس ﷺ اور مسلمانوں کو اس حادثہ کا سخت صدمہ تھا‘اور جتنا بھی صدمہ ہونا چاہیے تھا وہ ظاہر ہے‘حضور ؐمردوں سے اور عورتوں سے اس بارے میں مشورہ فرماتے تھے‘احوال کی تحقیق فرماتے تھے مگر یکسوئی کی کوئی صورت نہ ہو تی‘ ایک ماہ کے بعد سورۃ نور کا مستقل ایک رکوع قرآن پاک میں حضرت عائشہ ؓ کی براء ت میں نازل ہوا‘اور اللہ جل شانہ کی طرف سے ان لوگوں پر سخت عتاب ہوا جنہوں نے بے دلیل بے ثبوت اس تہمت کو شائع کیا تھا‘ اس واقعہ کو شہرت دینے والوں میں حضرت مطح ؓایک صحابی بھی تھے جو حضرت ابوبکر صدیق ؓکے رشتہ دار تھے اور حضرت ابوبکر ؓ انکی خبر گیری اور اعانت فرمایا کرتے تھے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں