مال خرچ کرنے کے فضائل میں

حضرت ابوبکر ؓ کا غصہ میں صلہ رحمی کے ترک کا ارادہ کرنا (قسط۔1)
اور جو لوگ تم میں (دین کے اعتبار سے) بندگی والے (اور دنیا کے اعتبار سے) وسعت والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اہل قرابت کو اور مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیں گے اور ان کو یہ چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور در گذر کر دیں‘ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصوروں کو معاف کر دے (پس تم بھی اپنے قصور داروں کو معاف کر دو) بیشک اللہ تعالیٰ غفور ُ رحیم ہے۔
(ف): 6ء ھ میں غزوہ بنی المصلطق کے نام سے ایک جہاد ہوا ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ بھی حضور اقدس ﷺ کے ہمراہ تھیں‘ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا‘ اس پر ہودج تھا یہ اپنے ہودج میں رہتی تھیں‘ جب چلنے کا وقت ہو تا‘ چند آدمی ہو دج کو اٹھا کر اونٹ پر باندھ دیتے‘بہت ہلکا پھلکا بدن تھا‘ اٹھانے والوں کو اس کا احساس بھی نہ ہو تا تھا کہ اس میں کوئی ہے یا نہیں‘ اس لئے کہ جب چار آدمی مل کر ہودج کو اٹھائیں‘اس میں ایک کمسن ہلکی پھلکی عورت کے وزن کا کیا پتہ چل سکتا ہے‘ حسب معمول ایک منزل پر قافلہ اتر ہوا تھا‘ جب روانگی کا وقت ہوا تو لوگوں نے ان کے ہودج کو باند ھ دیا‘ یہ اس وقت استنجے کے لئے تشریف لے گئی تھیں‘واپس آئیں تو دیکھا کہ ہار نہیں ہے جو پہن رہی تھیں‘ یہ اس کو تلاش کرنے چلی گئیں‘ پیچھے یہاں قافلہ روانہ ہو گیا‘ یہ تنہا اس جنگل میں کھڑی رہ گئیں۔
انہوں نے خیال فرمایا کہ جب راستہ میں حضور ؐ کو میرے نہ ہونے کا علم ہو گا تو آدمی تلاش کرنے اسی جگہ آئے گا‘ وہیں بیٹھ گئیں اور جب نیند کا علبہ ہوا تو سو گئیں‘ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے طمانیت قلب تو حق تعالیٰ شانہ نے ان سب حضرات کو کمال درجہ کی عطا فرما رکھی تھی‘آج کل کی کوئی عورت ہو تی تو تنہا جنگل بیابان میں رات کو نیند آنے کا تو ذکر ہی کیا‘ خوف کی وجہ سے روکر چلا کر صبح کر دیتی۔(کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں