مال خرچ کرنے کے فضائل میں

زانی چور وغیرہ پر صدقہ (قسط۔2)
طاؤس ؒ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے منت مانی کہ جو شخص سب سے پہلے اس آبادی میں نظر پڑے گا اس پر صدقہ کروں گا‘ اتفاق سے سب سے پہلے ایک عورت ملی اس کو صدقہ کا مال دیدیا لوگوں نے کہا کہ یہ تو بڑی خبیث عورت ہے‘ اس صدقہ کرنے والے نے اس کے بعد جو شخص سب سے پہلے نظر پڑا اس کو مال دیا‘ لوگوں نے کہا کہ یہ تو بد ترین شخص ہے‘ اس شخص نے اس کے بعد جو سب سے پہلے نظرپڑا اس پر صدقہ کیا‘ لوگوں نے کہا کہ یہ تو بڑا مالدار شخص ہے‘ صدقہ کرنے والے کو بڑا رنج ہوا‘ تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اللہ جل شانہ نے تیرے تینوں صدقے قبول کر لئے‘ وہ عورت فاحشہ عورت تھی لیکن محض ناداری کی وجہ سے اس نے یہ فعل اختیار کر رکھا تھا جب سے تونے اس کو مال دیا ہے‘ اس نے یہ برا کام چھوڑ دیا‘ دوسرا شخص چور تھااور وہ بھی تنگدستی کی وجہ سے چوری کر ت اتھا‘ تیرے مال دینے پر اس نے چوری سے علیحدگی اختیار کر لی‘ تیسرا شخص مالدار ہے اور کبھی صدقہ نہ کر تا تھا‘ تیرے صدقہ کرنے سے اس کو عبرت ہوئی کہ میں اس سے زیادہ مالدار ہوں اسلئے زیادہ صدقہ کرنے کا مستحق ہوں‘اب اس کو صدقہ کی توفیق ہو گئی۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں