مال خرچ کرنے کے فضائل میں

زانی چور وغیرہ پر صدقہ (قسط۔1)
(بنی اسرائیل کے) ایک آدمی نے اپنے دل میں کہا کہ آج رات کو چپکے سے صدقہ کرونگا‘چنانچہ رات کو چپکے سے ایک آدمی کے ہاتھ میں مال دے کر چلا آیا‘ صبح کو لوگوں میں آپس میں چرچا ہوا کہ رات کوئی شخص ایک چور کو صدقہ دے گیا اس صدقہ کرنیوالے نے کہا یا اللہ چور پر صدقہ کرنے میں بھی تیرے ہی لئے تعریف ہے (کہ اس سے بھی زیادہ بد چال کو دیا جا تا تو ہی بتا میں کیا کر سکتا تھا) پھر اس نے دوبارہ ٹھانی کہ آج رات کو پھر صدقہ کروں گا (کہ پہلا تو ضائع گیا) چنانچہ رات کو صدقہ کا مال لے کر نکلا اور اسکو ایک عورت کو دے آیا (یہ خیال کیا ہو گا کہ یہ تو چوری کیا کرے گی) صبح کو چرچا ہوا کہ رات کوئی شخص فلاں بد کار عورت کو صدقہ دے گیا‘

اس نے کہا یا اللہ تیرے ہی لئے تعریف ہے زنا کرنیوالی عورت پر بھی (کہ میرا مال تو اس سے بھی کم درجہ کے قابل تھا) پھر تیسری مرتبہ ارادہ کیا کہ آج رات کو ضرورت صدقہ کرونگا چنانچہ رات کو صدقہ لیکر گیا اور اسکو ایک شخص کو دیدیا جو مالدار تھا‘ صبح کو چرچا ہوا کہ رات ایک مالدار کو صدقہ دیا گیا‘اس صدقہ دینے والے نے کہا یا اللہ تیرے ہی لئے تعریف ہے چور پر بھی زنا کرنے والی عورت پر بھی اور غنی پر بھی‘رات کو خواب میں دیکھا کہ (تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے) تیرا صدقہ چور پر (اس لئے کرایا گیا) کہ شاید وہ اپنی چوری کی عادت سے توبہ کر لے اور زانیہ پر اس لئے کہ وہ شاید زنا سے توبہ کر لے (جب وہ یہ دیکھے گی کہ بغیر منہ کالا کرائے بھی اللہ جل شانہ عطا فرماتے ہیں تو اس کو غیر ت آئے گی) اور غنی پر اس لئے‘ تاکہ اس کو عبرت حاصل ہو (کہ اللہ کے بندے کس طرح چھپ کر صدقہ کر تے ہی ں اس کی وجہ سے) شاید وہ بھی اس مال میں سے جو اس کو اللہ جل شانہ نے عطا فرمایا ہے صدقہ کرنے لگے۔

(ف): ایک حدیث میں یہ قصہ اور طرح سے ذکر کیا گیا ہے‘ ممکن ہے کہ وہ دوسرا قصہ ہو‘ کہ اس قسم کے متعدد واقعات میں کوئی اشکال نہیں اور اگر وہ یہی قصہ ہے تو اس سے اس قصہ کی کچھ وضاحت ہو تی ہے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں