مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحت کی حالت میں صدقہ (قسط۔7)
اس لئے جو لوگ صدقات و اوقاف میں مرنے کے وقت کا انتظار کر تے ہیں یہ پسندیدہ چیز نہیں ہے‘اول تو اسی کا علم کسی کو نہیں کہ کب اور کس طرح موت آجائے‘ متعدد واقعات اس قسم کے قابل عبرت دیکھنے میں آئے کہ مرنے کے وقت بہت کچھ صدقات اور اوقاف کرنے کی امنگیں لوگوں میں تھیں‘ لیکن بیماری نے ایسا گھیرا کہ مہلت ہی نہ لینے دی‘ کسی پر فالج گر گیا‘ کسی کی زبان بند ہو گئی‘کہیں ورثہ تیمار دار بیچ میں حائل ہو گئے اور اگر ان سب عوارض سے بچ کر اس ی نوبت آ بھی جائے جو بہت کم آ تی ہے تب بھی وہ درجہ ثواب کا تو ہو تا نہیں جو اپنی خواہشات کو نقصان پہنچا کر صدقہ کرنے کا ہے‘ البتہ اگر اپنی زندگی میں کوتاہی سے نہ کر سکا ہو تو مرنے ہی کے وقت کو غنیمت سمجھے کہ مرنے کے بعد کوئی کسی کو نہیں پوچھتا‘سب دو چار دن رو کر بھول جا تے ہیں‘ روزانہ کے یہ مشاہدے ہیں‘ جو کچھ لے جانا ہے خود ہی اپنے ساتھ لے جاؤ‘کام دے گا۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں