مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحت کی حالت میں صدقہ (قسط۔1)
ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ کو نسا صدقہ ثواب کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہے؟ حضور ؐ نے فرمایا یہ کہ تو صدقہ ایسی حالت میں کرے‘کہ تندرست ہو مال کی حرص دل میں ہو‘اپنے فقیر ہو جانے کا ڈر ہو‘ اپنے مالدار ہونے کی تمنا ہو اور صدقہ کرنے کو اس وقت تک موخر نہ کرکہ روح حلق تک پہنچ جائے یعنی مرنے کا وقت قریب آجائے تو تو یوں کہے کہ اتنا مال فلاں (مسجد) کا اور اتنا مال فلاں (مدرسہ) کا‘حالانکہ اب مال فلاں (وارث) کا ہو گیا۔
(ف):”فلاں (وارث) کا ہو گیا“ کا مطلب یہ ہے کہ وارث کا حق اس میں شامل ہو گیا‘ اس لئے وصیت صرف ایک تہائی میں ہو سکتی ہے اور مرض الموت کے صدقات بھی تہائی میں ہو سکتے ہیں‘اس سے زیادہ کا حق مرنے والے کو نہیں ہے‘اسی واسطے ایک اور حدیث میں حضور اقدس ﷺ کا پاک ارشاد ہے کہ آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال‘حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں‘جو کھا لیا یا پہن لیا یا اللہ کے خزانہ میں صدقہ کرکے جمع کر دیا‘ اس کے علاوہ جو رہ گیا وہ جانے والا ہے یعنی یہ شخص اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے۔ (مشکوٰۃ)۔(کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں