مال خرچ کرنے کے فضائل میں

فرشتوں کی دعا خرچ کرنیوالے کو بدلہ دے‘روکنے والے کا مال برباد کر (قسط۔10)

مجھے اپنے والد صاحب نور اللہ مرقدہ کا یہ معمول دیکھنے کا بار ہا موقعہ ملا کہ رات کو وہ اپنے ملک میں کوئی روپیہ پیسہ رکھنا نہیں چاہا کر تے تھے‘قرضہ تو ہمیشہ ہی سر رہا حتیٰ کہ وصال کے وقت بھی سات آٹھ ہزار روپیہ قرض تھا‘ اس لئے اگر رات کو روپیوں کی کوئی مقدار ہو تی تو وہ کسی قرض خواہ کے حوالے کر دیتے اور پیسے ہو تے تو وہ بچوں میں سے کسی کو دیدیتے‘اور فرمایا کر تے تھے میرا نہیں جی چاہتا کہ یہ گندگی رات کو میرے پاس رہے‘

موت کا اعتبار نہیں ہے‘ اس سے بڑھ کر میں نے حضرت اقدس قدوۃُ الزاہدین شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری نور اللہ مرقدہ کے متعلق سنا ہے کہ حضرت کے پاس فتوحات کی کثرت تھی اور جب کچھ جمع ہو جا تا تو بہت اہتمام سے اس کو خیر کے مواقع میں تقسیم فرما دیا کر تے‘ اس کے بعد پھر کہیں سے کچھ آ جا تا تو چہرہ مبارک پر گرانی کے آثار ہو تے اور ارشاد فرماتے کہ یہ اور آ گیا‘

آخر میں حضرت نے اپنے پہننے کے کپڑے بھی تقسیم فرما دئیے تھے اور اپنے مخصوص خادم حضرت مولانا عبدالقادر صاحب زاد مجدہم سے فرمایا تھا کہ بس اب تو تم سے کپڑا متعار لے کر کر پہن لیا کروں گا‘ اللہ کے اولیاء کی شانیں اور انداز بھی عجیب ہوا کر تے ہیں‘ یہ بھی ایک ولولہ ہے کہ جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس جاویں‘اس دنیا کے متاع کا ذخیرہ ملک میں نہ ہو۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں