مال خرچ کرنے کے فضائل میں

فرشتوں کی دعا خرچ کرنیوالے کو بدلہ دے‘روکنے والے کا مال برباد کر (قسط۔4)
حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے آدم کے بیٹے تو ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دے یہ تیرے لئے بہتر ہے اور تو اس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے اور بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں اور خرچ کرنے میں جن کی روزی تیرے ذمہ ہے ان سے ابتداء کر (کہ ان پر خرچ کرنا دوسروں سے مقدم ہے)۔
اس مضمون کی تائید بھی آیات نمبر4پر گذر چکی ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ُ خود ہی فرما چکے ہیں کہ جتنا زائد ہو وہ خرچ کر دو‘اس جگہ یہ حدیث شریف بھی گذر چکی ہے (اہتمام کی اور توضیح کی وجہ سے یہاں دوبارہ ذکر کی گئی‘حقیقت یہی ہے کہ اپنے سے جو مال زائد ہو وہ جمع کر کے رکھنے کے واسطے ہے ہی نہیں‘

اس کے لئے بہترین بات یہی ہے کہ وہ اللہ کے بینک میں جمع کر دیا جائے جس کو کوئی زوال نہیں‘ اس پر کوئی آفت نہیں آ تی اور ایسے سخت مصیبت کے وقت کام آنے والا ہے جس وقت کے مقابلہ میں یہاں کی ضرور تیں کچھ بھی نہیں ہیں اور وہاں اس وقت کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے‘اثاثہ صرف وہی ہو گا جو اپنے ساتھ لے گیا ہے‘ دوسری چیز اس حدیث شریف میں یہ ہے کہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں‘ی

عنی جتنے کی واقعی ضرورت ہو کہ اس کے بغیر گذر مشکل ہو یا وست سوال وراز کرنا پڑے اس کو محفوظ رکھنے پر الزام نہیں ہے اور جن کی روزی اپنے ذمہ ہے اہل و عیال ہوں یا دوسرے لوگ ہوں حتیٰ کہ جانور بھی اگر محبوس کر رکھا ہے تو اس کی خبر گیری اپنے ذمہ ہے اس کو ضائع اور برباد کرنے کا گناہ اور وبال ہو تا ہے‘ حدیث پا ک میں حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ آدمی کے گناہ کیلئے یہی بہت ہے کہ جس کی روزی اس کے ذمہ ہو اس کو ضائع کر دے۔ (مشکوٰۃ)۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں