مال خرچ کرنے کے فضائل میں

فرشتوں کی دعا خرچ کرنیوالے کو بدلہ دے‘روکنے والے کا مال برباد کر (قسط۔3)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ بربادی کبھی تو بعینہ اس مال کی ہو تی ہے اور کبھی صاحب مال کی‘ یعنی وہ خود ہی چل دیتا ہے اور کبھی بربادی نیک اعمال کے ضائع ہونے سے ہو تی ہے کہ وہ اس میں پھنس کر نیک اعمال سے جا تا رہتا ہے اور اس کے بالمقابل جو خرچ کر تا ہے اس کے مال میں برکت ہو تی ہے‘بلکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص صدقہ اچھی طرح کر تا ہے حق تعالیٰ شانہ ُ اس کے ترکہ میں اچھی طرح نیابت کر تے ہیں (احیاء) یعنی اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا مال وارث برباد نہیں کر تے

‘لغو چیزوں میں ضائع نہیں کر تے ورنہ اکثر روسا ء کے لڑکے باپ کے مال کا جو حشر کر تے ہیں وہ معلوم ہی ہے‘ امام نودی ؒنے لکھا ہے کہ جو خرچ پسندیدہ ہے وہ وہی خرچ ہے جو نیک کاموں میں ہو‘ اہل و عیال کے نفقہ میں ہو یا مہمانوں پر خرچ ہو‘ یا دوسری عبادتوں میں ہو‘قرطبی ؒ کہتے ہیں کہ یہ فرض عبادت اور نفل عبادت دونوں کو شامل ہے‘ لیکن نوافل سے رکنے والا بد دعا کا مستحق نہیں ہو تا مگر یہ کہ اس کی طبیعت پر ایسا بخل مسلط ہو جائے جو واجبات میں بھی خوشی سے خرچ نہ کرے (فقط) لیکن آئندہ حدیث تعمیم کی طرف اشارہ کر تی ہے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں