مال خرچ کرنے کے فضائل میں

حضرت ابو ذر ؓ کی حالت (آخری قسط)
انہی حضرت کا ایک اور قصہ مشکوٰۃ شریف میں آیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ؓکے زمانہ خلافت میں ان کی خدمت میں حاضر تھے‘حضرت عثمان ؓنے حضرت کعب ؒ سے کہا کہ حضرت عبدالرحمن ؓکا انتقال ہو گیا اور انہوں نے ترکہ میں مال چھوڑا ہے تمہارا کیا خیال ہے کچھ نا مناسب تو نہیں ہوا کعب نے فرمایا کہ اگر وہ اس مال میں اللہ کے حقوق ادا کرتے رہے ہوں تو پھر کیا مضائقہ ہے‘حضرت ابو ذر ؓکے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی‘ اس سے حضرت کعب ؒ کو مارنا شروع کر دیا کہ میں نے خود حضور اقدس ﷺ سے سنا ہے کہ اگر یہ پہاڑ سونے کا ہو جائے اور میں اسکو سب کو خرچ کر دوں اور وہ قبول ہو جائے تو مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس میں سے چھ اوقیہ بھی اپنے بعد چھوڑوں‘ اس کے بعد ابوذر ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں‘ کیا حضور ؐ سے تم نے یہ حدیث تین مر تبہ سنی ہے‘ حضرت عثمان ؓ نے کہا‘بیشک سنی ہے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں