مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحابہ ؓ کا ایثار (قسط۔34)
منتوں کے پورا کرنے کے متعلق قتادہ ؒ سے نقل کیا گیا کہ اللہ کے تمام احکام کو پورا کرنے والے لوگ ہیں‘ اسی وجہ سے شروع میں ان کو ابرار سے تعبیر کیا گیا‘ مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اس سے وہ منتیں مراد ہیں جو اللہ کے حق میں کی گئی ہوں (یعنی کوئی شخص روزوں کی نذر کر لے‘ اعتکاف کی نذر کر لے‘اسی طرح عبادات کی نذر کر لے) عکرمہ کہتے ہیں کہ شکرانہ کی منتیں مراد ہیں‘ حضرت ابن عباس ؓسے نقل کیا گیا کہ حضور ؐکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے یہ منت مان رکھی تھی کہ میں اپنے آپ کو اللہ کے واسطے ذبح کردوں گا‘ حضور اقدس ﷺ کسی چیز میں مشغول تھے‘ اتفات نہیں فرمایا‘یہ صاحب حضور ؐ کے سکوت سے اجازت سمجھے اور (حضور ؐ سے عرض کر دینے کے بعد) اٹھے‘دور جا کر اپنے آپ کو ذبح کرنے لگے‘ حضور ؐکو اس کا علم ہوا‘حضور ؐ نے فرمایا‘اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے جو منت کے پورا کرنے کا اس قدر اہتمام کریں‘ اس کے بعد (ان کو اپنے ذبح کرنے سے منع فرمایا اور) ان سے فرمایا‘ کہ اپنی جان کے بدلہ 100اونٹ اللہ کے نام پر ذبح کریں (اس لئے کہ اپنے آپ کو ذبح کرنا ناجائز ہے اور جان کا فدیہ ویت میں 100اونٹ ہے۔ (کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں