مال خرچ کرنے کے فضائل میں

صحابہ ؓ کا ایثار (قسط۔30)
اور وہ لوگ (اپنے دل میں یا زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم کو محض اللہ کے واسطے کھلا تے ہیں‘نہ تو ہم اس کا تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ اس کا شکریہ چاہتے ہیں (بلکہ اس وجہ سے کھلا تے ہیں) کہ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا (یعنی قیامت کے دن کا) خوف رکھتے ہیں پس اللہ جل شانہ آنکھ اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا اور انکو تازگی اور سرور عطا کریگا اور ان کو اس پختگی کے بدلہ میں جنت اور ریشمی لباس عطا کریگا اس حالت میں کہ وہ جنت میں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے نہ وہاں گرمی کی تپش پاویں گے‘نہ سردی (بلکہ متعدل موسم ہو گا)اور درختوں کے سائے ان لوگوں پر جھکے ہوئے ہوں گے اور انکے خوشے انکے مطیع ہونگے (کہ جس وقت جس کو پسند کریں گے وہ قریب آجائیگا) اور ان کے پاس (کھانے پیسے کیلئے) چاندی کے برتن اور شیشہ کے انجورے لائے جائیں گے ایسے شیشے جو چاندی کے ہوں گے (یعنی وہ شیشے بجائے کانچ کے چاندی کے بنے ہوئے ہونگے جو اس عالم میں دشوار نہیں) اور ان کو بھرنے والوں نے صحیح اندازہ سے بھرا ہو گا (کہ ضرورت سے کم نہ زیادہ) اور وہاں (کا فوری شراب کے علاوہ) ایسے جام شراب بھی پلائے جّّنگے جس میں سے نٹھ کی آمیزش ہو گی (جیسا کہ جنجر کی بول میں ہو تا ہے) یہ ایسے چشمے سے بھر جائیں گے جس کا نام سلبیل ہے (کا فور ٹھنڈا ہو تا ہے اور سونٹھ گرم‘مطلب یہ ہے کہ وہاں مختلف المزاج شرابیں ہیں۔(کتاب۔۔فضائل صدقات)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں