فضائل رمضان المبارک کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر9)

حضور اقدس ﷺکا ارشاد ہے کہ روزہ آدمی کے لئے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے‘(ف) ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے آدمی ڈھال سے اپنی حفاظت کر تا ہے اسی طرح روزہ سے بھی اپنے دشمن یعنی شیطان سے حفاظت ہو تی ہے‘ ایک روایت میں آیا ہے کہ روزہ حفاظت ہے اللہ کے عذاب سے‘ دوسری روایت میں ہے کہ روزہ جہنم سے حفاظت ہے‘ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ روزہ کس چیز سے پھٹ جا تا ہے‘

حضور ؐ نے فرمایا کہ جھوٹ اور غیبت سے‘ ان دونوں روایتوں میں اور اسی طرح اور بھی متعدد روایات میں روزہ میں اس قسم کے امور سے بچنے کی تاکید آئی ہے اور روزہ کا گویا ضائع کر دینا اس کو قرار دیا ہے‘ ہمارے اس زمانہ میں روزہ کے کاٹنے کیلئے مشغلہ اس کو قرار دیا جاتا ہے کہ واہی تباہی میری تیری باتیں شروع کر دی جائیں‘ بعض علماء کے نزدیک جھوٹ اور غیبت سے روزہ ٹوت جا تا ہے‘ یہ دونوں چیزیں ان حصرات کے نزدیک ایسی ہیں جیسے کہ کھانا پینا وغیرہ سب روزہ کو توڑنے والی اشیاء ہیں‘جمہور کے نزدیک اگرچہ روزہ ٹوٹتا نہیں‘مگر روزہ کے برکات جاتے رہنے سے تو کسی کو بھی انکار نہیں‘

مشائخ نے روزہ کے آداب میں چھ امور تحریر فرمائے ہیں کہ روزہ دار کو ان کا اہتمام ضروری ہے‘ اول نگاہ کی حفاظت کہ کسی بے محل جگہ پر نہ پڑے حتیٰ کہ کہتے ہیں کہ بیوی پر بھی شہوت کی نگاہ نہ پڑے پھر اجنبی کا کیا ذکر اور اسی طرح کسی لہو و لعب وغیرہ ناجائز جگہ نہ پڑے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اس سے اللہ کے خوف کی وجہ سے بچ رہے حق تعالیٰ جل شانہ ُ اس کو ایسا نور ایمانی نصیب فرماتے ہیں جس کی صلاوت اور لذت قلب میں محسوس کر تا ہے‘ صوفیاء نے بے محل کی تفسیر یہ کی ہے کہ ہر ایسی چیز کا دیکھنا اس میں داخل ہے‘ جو دل کو حق تعالیٰ شانہ ُ سے ہٹا کر کسی دوسری طرف متوجہ کر دے‘ دوسری چیز زبان کی حفاظت ہے‘

جھوٹ چغل خوری‘ لغو بکواس‘غیبت‘بد گوئی‘بد کلامی جھگڑا وغیرہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں‘ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ روزہ آدمی کیلئے ڈھال ہے اس لئے روزہ دار کو چاہیے کہ زبان سے کوئی فحش بات یا جہالت کی بات مثلاً تمسخر جھگڑا وغیرہ نہ کرے‘ اگر کوئی دوسرا جھگڑنے لگے تو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے یعنی دوسرے کی ابتداء کرنے پر بھی اس سے نہ الجھے‘اگر وہ سمجھنے والا ہو تو اس سے کہہ دے کہ میرا روزہ ہے اور اگر وہ بیوقوف نا سمجھ ہو تو اپنے دل کو سمجھا وے کہ تیرا روزہ ہے تجھے ایسی لغویات کا جواب مناسب نہیں‘بالخصوص غیبت اور جھوٹ سے تو بہت ہی احتراز ضروری ہے کہ بعض علماء کے نزدیک اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے‘

نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں دو عورتوں نے روزہ رکھا‘ روزہ میں اس شدت سے بھوک لگی کہ نا قابل برداشت بن گئی‘ ہلاکت کے قریب پہنچ گئیں‘ صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا تو حضور ؐ نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا اور ان دونوں کو اس میں قے کرنے کا حکم فرمایا دونوں نے قے کی تو اس میں گوشت کے ٹکڑے اور تازہ کھایا ہوا خون نکلا‘لوگوں کو حیرت ہوئی تو حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے حق تعالیٰ شانہ ُ کی حلال روزی سے تو روزہ رکھا اور حرام چیزوں کو کھایا کہ دونوں عورتیں لوگوں کی غیبت کر تی رہیں‘اس حدیث سے ایک مضمون اور بھی مترشح ہو تا ہے کہ غیبت کر نے کی وجہ سے روزہ بہت زیادہ معلوم ہو تا ہے حتیٰ کہ وہ دونوں عورتیں روزہ کی وجہ سے مرنے کے قریب ہو گئیں‘ اسی طرح اور بھی گناہوں کا حال ہے اور تجربہ اس کی تائید کر تا ہے‘

کہ روزہ میں اکثر متقی لوگوں پر ذرا بھی اثر نہیں ہو تا اور فاسق لوگوں کی اکثر بری حالت ہو تی ہے اس لئے اگر یہ چاہیں کہ روزہ نہ لگے تب بھی اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ گناہوں سے اس حالت میں احتراز کریں بالخصوص غیبت سے جس کو لوگوں نے روزہ کاٹنے کا مشغلہ تجویز کر رکھا ہے‘ حق تعالیٰ شانہ ُ نے اپنے کلام پاک میں غیبت کو اپنے بھائی کے مردار گوشت سے تعبیر فرمایا ہے اور احادیث میں بھی بکثرت اس قسم کے واقعات ارشاد فرمائے گئے ہیں جن سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی اس کا حقیقتاً گوشت کھایا جاتا ہے‘ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ چند لوگوں کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ دانتوں میں خلال کرو‘انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے تو آج گوشت چکھا بھی نہیں‘

حضور ؐ نے فرمایا کہ فلاں شخص کا گوشت تمہارے دانتوں کو لگ رہا ہے‘ معلوم ہوا کہ ان کی غیبت کی تھی‘اللہ تعالیٰ اپنے حفظ میں رکھے کہ ہم لوگ اس سے بہت ہی غافل ہیں‘عوام کا ذکر نہیں خواص مبتلا ہیں‘ان لوگوں کو چھوڑ کر جو دنیا دار کہلاتے ہیں دین داروں کی مجالس بھی بالعموم اس سے کم خالی ہو تی ہیں‘اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اکثر اس کو غیبت بھی نہیں سمجھا جاتا ہے‘ اگر اپنے یا کسی کے دل میں کچھ کھٹکا بھی پیدا ہو تو اس پر اظہار واقعہ کا پر دہ ڈال دیا جاتا ہے‘ نبی کریم ﷺ سے کسی نے دریافت کیا کہ غیبت کیا چیز ہے حضور ؐ نے فرمایا کہ کسی کی پس پشت ایسی بات کرنی جو اسے ناگوار ہو‘ سائل نے پوچھا کہ اگر اس میں واقعۃً وہ بات موجود ہو جو کہی گئی‘ حضور ؐ نے فرمایا جب ہی تو غیبت ہے‘

اگر واقعۃً موجود نہ ہو تب تو بہتان ہے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کا دو قبروں پر گذر ہوا تو حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب قبر ہو رہا ہے‘ ایک کو لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے‘دوسرے کو پیشاب سے احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے‘ حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ سود کے ستر سے زیادہ باب ہیں‘ سب سے سہل اور ہلکا درجہ اپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر ہے اور ایک درہم سود کا پینتیس زنا سے زیادہ سخت ہے‘اور بد ترین سود اور سب سے زیادہ خبیث ترین سود مسلمان کی آبر و ریزی ہے‘احادیث میں غیبت اور مسلما ن کی آبرو ریزی پر سخت سے سخت وعید یں آئی ہیں‘ میرا دل چاہتا تھا کہ ان میں سے کچھ متعدبہ روایات جمع کروں اسلئے کہ ہماری مجلسیں اس سے بہت ہی زیادہ پر رہتی ہیں مگر مضمون دوسرا ہے اس لئے اس قدر پر اکتفاء کر تا ہوں‘

اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو اس بلا سے محفوظ فرمائیں اور بزرگوں اور دوستوں کی دعا سے مجھ سیہ کار کو بھی محفوظ فرمائیں کہ باطنی امراض میں کثرت سے مبتلا ہوں‘۔”کبر و نخوت جہل و غفلت حقد و کینہ بد ظنی۔کذب و بدعہدی ریا و بغض و غیبت دشمنی۔ کون بیماری ہے یا رب جو نہیں مجھ میں ہوئی۔ عافنی من کل داء واقض عنی حاجتی۔ ان لی قلبا سقما انت شاف للعلیل“ تیسری چیز جس کا روزہ دار کو اہتمام ضروری ہے وہ کان کی حفاظت ہے ہر مکر وہ چیز سے جس کا کہنا اور زبان سے نکالنا ناجائز ہے اس کی طرف کان لگانا اور سننا بھی ناجائز ہے‘نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ غیبت کا کرنے والا اور سننے والا دونوں گناہ میں شریک ہیں‘

چوتھی چیز باقی اعضاء بدن مثلاً ہاتھ کا ناجائز چیز کے پکڑنے سے‘پاؤں کا ناجائز چیز کی طرف چلنے سے روکنا اور اسی طرح اور باقی اعضاء بدن کا اسی طرح پیٹ کا افطار کے وقت مشتبہ چیز سے محفوظ رکھنا جو شخص روزہ رکھ کر حرام مال سے افطار کر تا ہے اس کا حال اس شخص کا سا ہے کہ کسی مرض کیلئے دوا کر تا ہے مگر اس میں تھوڑا سا سنکھیا بھی ملا لیتا ہے کہ اس مرض کیلئے تو وہ دوا مفید ہو جائے گی مگر یہ زہر ساتھ ہی ہلاک بھی کر دے گا‘ پانچویں چیز افطار کے وقت حلال مال سے بھی اتنا زیادہ نہ کھانا کہ شکم سیر ہو جائے اسلئے کہ روزہ کی غرض اس سے فوت ہو جا تی ہے‘

مقصود روزہ سے قوت شہوانیہ اور بہیمیہ کا کم کرنا ہے اور قوت نورانیہ اور ملکیہ کا بڑھانا ہے‘ گیارہ مہینہ تک بہت کچھ کھایا ہے اگر ایک مہینہ اس میں کچھ کمی ہو جائے گی تو کیا جان نکل جا تی ہے‘ مگر ہم لوگوں کا حال ہے کہ افطار کے وقت تلافی مافات میں اور سحر کے وقت حفظ ماتقدم میں اتنی زیادہ مقدار کھا لیتے ہیں کہ بغیر رمضان کے اور بغیر روزہ کی حالت کے اتنی مقدار کھانے کی نوبت بھی نہیں آ تی‘رمضان المبارک بھی ہم لوگوں کیلئے خوید کا کام دیتا ہے‘ علامہ غزالی ؒ لکھتے ہیں کہ روزہ کی غرض یعنی قہر ابلیس اور شہوت نفسانیہ کا توڑنا کیسے حاصل ہو سکتا ہے اگر آدمی افطار کے وقت اس مقدار کی تلافی کر ے جو فوت ہوئی‘حقیقتاً ہم لوگ بجز اس کے کہ اپنے کھانے کے اوقات بدل دیتے ہیں اس کے سوا کچھ بھی کمی نہیں کر تے‘

بلکہ اور زیادتی مختلف انواع کی کر جا تے ہیں جو بغیر رمضان کے میسر نہیں ہو تی‘لوگوں کی کچھ ایسی علوت ہو گئی ہے کہ عمدہ عمدہ اشیاء رمضان کیلئے رکھتے ہیں اور نفس دن بھر کے فاقہ کے بعد جب ان پر پڑتا ہے تو خوب زیادہ سیر ہو کر کھاتا ہے تو بجائے قوت شہوانیہ کے ضعیف ہونے کے اور بھڑک اٹھتی ہے اور جوش میں آ جا تی ہے اور مقصد کے خلاف ہو جاتا ہے‘ روزہ کے اندر مختلف اغراض اور فوائد اور اس کے مشروع ہونے سے مختلف منافع مقصود ہیں وہ سب جب ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب کچھ بھوکا بھی رہے‘

بڑا نفع تو یہی ہے جو معلوم ہو چکا یعنی شہوتوں کا توڑنا‘ یہ بھی اسی پر موقوف ہے کہ کچھ وقت بھوک کی حالت میں گذرے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ شیطان آدمی کے بدن میں خون کی طرح چلتا ہے اس کے راستوں کو بھوک سے بند کرو‘ تمام اعضاء کا سیر ہونا نفس کے بھوکا رہنے پر موقوف ہے جب نفس بھوکا رہتا ہے تو تمام اعضاء سیر رہتے ہیں اور جب نفس سیر ہو تا ہے تو تمام اعضاء بھوکے رہتے ہیں‘ دوسری غرض روزہ سے فقراء کے ساتھ تشبہ اور ان کے حال پر نظر ہے وہ بھی جب ہی حاصل ہو سکتی ہے‘ جب سحر میں معدہ کو دودھ جلیبی سے اتنا نہ بھرلے کہ شام تک بھوک ہی نہ لگے‘ فقراء کے ساتھ مشابہت جب ہی ہو سکتی ہے جب کچھ وقت بھوک کی بے تابی کا بھی گذرے‘ بشر حانی ؒ کے پاس ایک شخص گئے وہ سردی میں کانپ رہے تھے اور کپڑے پاس رکھے ہوئے تھے‘

انہوں نے پوچھا کہ یہ وقت کپڑے نکالنے کا ہے فرمایا کہ فقراء بہت ہیں اور مجھ میں ان کی ہمدردی کی طاقت نہیں‘اتنی ہمدردی کر لوں کہ میں بھی ان جیسا ہو جاؤں‘ مشائخ صوفیاء نے عامۃً اس پر تنبیہ فرمائی ہے اور فقہاء نے بھی اسکی تصریح کی ہے‘صاحب مراتی الفلاح ؒ لکھتے ہیں کہ سحور میں زیادتی نہ کرے جیسا کہ متنعم لوگوں کی عادت ہے کہ یہ غرض کو فوت کر دیتا ہے‘ علامہ طحطاوی ؒ اس کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ غرض کا مقصود یہ ہے کہ بھوک کی تلخی کچھ محسوس ہو تا کہ زیادتی ثواب کا سبب ہو اور مساکیں و فقراء پر ترس آ سکے‘

خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ ُ کو کسی برتن کا بھرنا اس قدر نا پسند نہیں ہے جتنا کہ پیٹ کا پر ہونا نا پسند ہے‘ ایک جگہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ آدمی کیلئے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمر سیدھی رہے‘ اگر کوئی شخص بالکل کھانے پر تل جائے تو اس سے زیادہ نہیں کہ ایک تہائی پیٹ کھانے کیلئے رکھے اور ایک تہائی پینے کیلئے اور ایک تہائی خالی‘آخر کوئی تو بات تھی کہ نبی کریم ﷺ کئی کئی روز تک مسلسل لگاتار روزہ رکھتے تھے کہ درمیان میں کچھ بھی نوش فرماتے تھے‘ میں نے اپنے آقا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کو پورے رمضان المبارک دیکھا ہے کہ افطار و سحر دونوں وقت کی مقدار تقریباً ڈیڑھ چپاتی سے زیادہ نہیں ہو تی تھی‘کوئی خادم عرض بھی کر تا تو فرماتے کہ بھوک نہیں ہو تی‘

دوستوں کے خیال سے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں اور اس سے بڑھ کر حضرت مولٰنا شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری ؒ کے متعلق سنا ہے کہ کئی کئی دن مسلسل ایسے گذر جا تے تھے کہ تمام شب کی مقدار سحر و افطار بے دودھ کی جائے کے چند فنجان کے سوا کچھ نہ ہو تی تھی‘ ایک مرتبہ حضرت کے مخلص خادم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب (نور اللہ مرقدہ) نے لجاجت سے عرض کیا کہ ضعف بہت ہو جائے گا حضرت کچھ تناول ہی نہیں فرماتے تو حضرت نے فرمایا کہ الحمدللہ جنت کا لطف حاصل ہو رہا ہے‘ حق تعالیٰ ہم سیہ کاروں کو بھی ان پاک ہستیوں کو اتباع نصیب فرماویں تو ز ہے نصیب مولانا سعدی ؒ فرماتے ہیں۔

”ندار مد تین پروراں آگہی۔کہ پر معدہ باشد ز حکمت تہی“۔چھٹی چیز جس کا لحاظ روزہ دار کیلئے ضروری فرماتے ہیں یہ ہے کہ روزہ کے بعد اس سے ڈرتے رہنا بھی ضروری ہے کہ نا معلوم یہ روزہ قابل قبول ہے یا نہیں اور اسی طرح ہر عبادت کے ختم پر کہ نا معلوم کوئی لغزش جس کی طرف التفات بھی ہیں ہو تا‘ ایسی تو نہیں ہو گئی جس کی وجہ سے یہ منہ پر مار دیا جائے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ہیں کہ قرآن پاک ان کو لغت کر تا رہتا ہے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت میں جن لوگوں کا اولین وہلہ میں فیصلہ ہو گا (ان کے من جملہ) ایک شہید ہو گا جس کو بلایا جائے گا اور اللہ کے جو جو انعام دنیا میں اس پر ہوئے تھے وہ اس کو جتائے جائیں گے‘ وہ ان سب نعمتوں کا قرار کریگا‘اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں میں کیا حق ادائیگی کی‘

وہ عرض کرے گا کہ تیرے راستہ میں قتال کیا حتیٰ کہ شہید ہو گیا‘ارشاد ہو گا کہ جھوٹ ہے بلکہ قتال اس لئے کیا تھا کہ لوگ بہادر کہیں‘ سو کہا جا چکا‘ اس کے بعد حکم ہو گا اور منہ کے بل کھینچ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘ ایسے ہی ایک عالم بلایا جائے گا اس کو بھی اسی طرح سے اللہ کے انعامات جتلا کر پوچھا جائے گا‘کہ ان انعامات کے بدلے میں کیا کار گذاری ہے وہ عرض کرے گا کہ علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کی خاطر تلاوت کی‘ ارشاد ہو گا کہ جھوٹ ہے یہ اسلئے کیا گیا تھا کہ لوگ علامہ کہیں‘ سو کہا جا چکا‘اس کو بھی حکم ہو گا اور منہ کے بل کھینچ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘ اسی طرح ایک دولت مند بلایا جائے گا‘

اس سے انعامات الٰہی شمار کرانے اور اقرار لینے کے بعد پوچھا جائے گا ہک اللہ کی ان نعمتوں میں کیا وہ کہے گا کہ کوئی خیر کا راستہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں میں نے کچھ خرچ نہ کیا ہو‘ ارشاد ہو گا کہ جھوٹ ہے یہ اسلئے کیا گیا تھا کہ لوگ سخی کہیں‘سو کہا جا چکا‘اس کو بھی حکم ہو گا اور منہ کے بل کھینچ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘ اللہ محفوظ فرمائیں کہ یہ سب بد نیتی کے ثمرات ہیں‘ اس قسم کے بہت سے واقعات احادیث میں مذکور ہیں اسلئے روزہ دار کو اپنی نیت کی حفاظت کے ساتھ اس سے خائف بھی رہنا چاہیے اور دعا بھی کر تے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ شانہ ُ اس کو اپنی رضا کا سبب بنا لیں‘مگر ساتھ ہی یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ اپنے عمل کو قابل قبول نہ سمجھنا امر آخر اور کریم آقا کے لطف پر نگاہ امر آخر ہے اس کے لطف کے انداز باکل نرالے ہیں‘

معصیت پر بھی کبھی ثواب دیدیتے ہیں تو پھر کوتاہی عمل کا کیا ذکر۔”خوبی ہمیں کرشمہ و ناز و خرام یست۔بسیا رشیو ہا است بتاں راکہ نام نیست“۔ یہ چھ چیزیں عام صلحاء کیلئے ضروری بتلائی جا تی ہے‘ خواص اور مقربین کیلئے ان کے ساتھ ایک ساتویں چیز کا بھی اضافہ کر تے ہیں کہ دل کو اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف بھی متوجہ نہ ہونے دے حتیٰ کہ روزہ کی حالت میں اس کا خیال اور تدبیر کہ افطار کیلئے کوئی چیز ہے یا نہیں یہ بھی خطا فرماتے ہیں‘بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ روزہ میں شام کو افطار کے لئے کسی چیز کے حاصل کرنے کا قصد بھی خطا ہے اسلئے کہ یہ اللہ کے وعدہ رزق پر اعتماد کی کمی ہے‘

شرح احیاء میں بعض مشائخ کا قصہ لکھا ہے کہ اگر افطار کے وقت سے پہلے کوئی چیز کہیں سے آ جا تی تھی تو اس کو کسی دوسرے کو دیدتے تھے مبادا دل کو اس کی طرف التفات ہو جائے اور توکل میں کسی قسم کی کمی ہو جائے‘ مگر یہ امور بڑے لوگوں کیلئے ہیں‘ ہم لوگوں کو ان امور کی ہوس کرنا بھی بے محل ہے اور اس حالت پر پہنچے بغیر اس کو اختیار کرنا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے‘مفسرین نے لکھا ہے کہ میں آدمی کے ہر جزو پر روزہ فرض کیا گیا ہے‘

پس زبان کا روزہ جھوٹ وغیرہ سے بچنا ہے اور کان کا روزہ ناجائز چیزوں کے سننے سے احتراز‘ آنکھ کا روزہ لہو و لعب کی چیزوں سے احتراز ہے اور ایسے ہی با قی اعضاء حتیٰ کہ نفس کا روزہ حرص و شہوتوں سے بچنا‘ال کا روزہ حب دنیا سے خالی رکھنا‘ روح کا روزہ آخرت کی لذتوں سے بھی احتراز اور سر خاص کا روزہ غیر اللہ کے وجود سے بھی احتراز ہے۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں