فضائل رمضان المبارک کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر8)

حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے ثمرات میں بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی حاصل نہیں اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہ ملا‘(ف) علماء کے اس حدیث کی شرح میں چند اقوال ہیں اول یہ کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو دن بھر روزہ رکھ کر مال حرام سے افطار کر تا ہے کہ جتنا ثواب روزہ کا ہوا تھا اس سے زیادہ گناہ حرام مال کھانے کا ہو گیا اور دن بھر بھوکا رہنے کے سوا اور کچھ نہ ملا‘دوسرے یہ کہ وہ شخص مراد ہے جو روزہ رکھتا ہے لیکن غیبت میں بھی مبتلا رہتا ہے جس کا بیان آگے آ رہا ہے‘تیسرا قول یہ ہے کہ روزہ کے اندر گناہ وغیرہ سے احتراز نہیں کرتا‘نبی اکرم ﷺ کے ارشادات جامع ہو تے ہیں یہ سب صورتیں اس میں داخل ہیں اور ان کے علاوہ بھی‘اسی طرح جاگنے کا حال ہے کہ رات بھر شب بیداری کی مگر تفریحاً تھوڑی سی غیبت یا کوئی اور حماقت بھی کر لی تو وہ سارا جاگنا بیکار ہو گیا‘مثلاً صبح کی نماز ہی قضا کر دی یا محض ریا اور شہرت کے لئے جاگا تو وہ بیکار ہے۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں