فضائل رمضان المبارک کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر7)

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ خود حق تعالیٰ شانہ ُ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں‘(ف) کس قدر اللہ جل جلالہ ُ کا انعام و احسان ہے کہ روزہ کی برکت سے اس سے پہلے کھانے کو جس کو سحری کہتے ہیں امت کیلئے ثواب کی چیز بنا دیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو اجر دیا جاتا ہے‘ بہت سی احادیث میں سحر کھانے کی فضیلت اور اجر کا ذکر ہے‘ علامہ عینی ؒ نے سترہ صحابہ ؓ سے اسکی فضیلت کی احادیث نقل کی ہیں اور اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے‘ بہت سے لوگ کاہلی کی وجہ سے اس فضیلت سے محروم رہ جا تے ہیں اور بعض لوگ تراویح پڑھ کر کھانا کھا کر سو جا تے ہیں اور وہ اس کے ثواب سے محروم رہتے ہیں‘ اس لئے کہ لغت میں سحر اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح کے قریب کھایا جائے جیسا کہ قاموس نے لکھا ہے‘ بعض نے کہا ہے کہ آدھی رات کو چھ حصوں پر تقسیم کرکے اخیر کا حصہ مثلاً اگر غروب آفتاب سے طلوع صبح صادق تک بارہ گھنٹے ہوں تو اخیر کے دو گھنٹے سحر کا وقت ہے اور ان میں بھی تاخیر اولے ہے‘بشرطیکہ اتنی تاخیر نہ ہو کہ روزہ میں شک ہونے لگے‘ سحر کی فضیلت بہت سی احادیث میں آئی ہے‘نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہمارے اور اہل کتاب (یہو دو نصاریٰ) کے روزہ میں سحری کھانے سے فرق ہو تا ہے کہ وہ سحری نہیں کھاتے‘ایک جگہ ارشاد ہے کہ سحری کھایا کرو کہ اس میں برکت ہے‘ ایک جگہ ارشاد ہے کہ تین چیزوں میں برکت ہے‘ جماعت میں اور ثرید میں اور سحری کھانے میں‘ اس حدیث میں جماعت سے عام مراد ہے‘ نماز کی جماعت اور ہر وقت کام جس کو مسلمانوں کی جماعت مل کر کرے کہ اللہ کی مدد اس کے ساتھ فرمائی گئی ہے اور ثرید گوشت میں پکی ہوئی روٹی کہلاتی ہے جو نہایت لذیر کھانا ہو تا ہے‘ تیسرے سحری‘نبی کریم ﷺ جب کسی صحابی ؓ کو اپنے ساتھ سحر کھلانے کیلئے بلاتے تو ارشاد فرماتے کہ آؤ برکت کا کھانا کھا لو‘ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ سحری کھا کر روزہ پر قوت حاصل کرو اور دوپہر کو سو کر اخیر شب کے اٹھنے پر مدد چاہا کرو‘حضرت عبداللہ بن حارث ؓ ایک صحابی ؓ سے نقل کر تے ہیں کہ میں حضور ؐ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا کہ آپ ؐ سحری نوش فرما رہے تھے‘ آپ ؐ نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ نے تم کو عطا فرمائی ہے اس کو مت چھورنا‘ حضور ؐ نے متعدد روایات میں سحور کی ترغیب فرمائی ہے حتیٰ کہ ارشاد ہے کہ اور کچھ نہ ہو تو ایک چھو ہارہ ہی کھالے یا ایک گھونٹ پانی ہی پی لے‘اس لئے روزہ داروں کو اس ہم خرما وہم ثواب کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے کہ اپنی راحت اپنا نفع اور مفت کا ثواب‘مگر اتنا ضروری ہے کہ افراط و تفریط ہر چیز میں مضر ہے اس لئے نہ اتنا کم کھاوے کہ عبادات میں ضعف محسوس ہونے لگے اور نہ اتنا زیادہ کھاوے کہ دن بھر کھٹی ڈکاریں آ تی ہیں‘خود ان احادیث میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ چاہے ایک چھوارہ ہو یا ایک گھونٹ پانی‘نیز مستقل احادیث میں بھی بہت کھانے کی ممانعت آئی ہے‘حافظ ابن حجر ؒ بخاری کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ سحری کی برکات مختلف وجوہ سے ہیں‘اثباع سنت‘ اہل کتاب کی مخالفت کہ وہ سحری نہیں کھاتے‘ اور ہم لوگ حتیٰ الوسع ان کی مخالفت کے مامور ہیں‘نیز عبادت پر قوت‘ عبادت میں دل بستگی کی زیادتی‘ نیز شدت بھوک سے اکثر بد خلقی پیدا ہو جا تی ہے اس کی مدافعت اس وقت کوئی ضرورت مند سائل آجائے تو اس کی اعانت‘ کوئی پڑوس میں غریب فقیر ہو اس کی مدد‘یہ وقت خصوصیت سے قبولیت دعا کا ہے‘ سحری کی بد ولت دعا کی توفیق ہو جا تی ہے اس وقت میں ذکر کی توفیق ہو جا تی ہے وغیرہ وغیرہ‘ابن دقیق العید ؒ کہتے ہیں کہ صوفیاء کو سحور کے مسئلہ میں کلام ہے کہ وہ مقصد روزہ کے خلاف ہے اسلئے کہ مقصد روزہ پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت کا توڑنا ہے اور سحری کھانا اس مقصد کے خلاف ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ مقدار میں اتنا کھانا کہ یہ مصلحت با لکلیہ فوت ہو جائے یہ تو بہتر نہیں اس کے علاوہ حسب حیثیت و ضرورت مختلف ہو تا رہتا ہے‘بندہ کے ناقص خیال میں اس بارے میں قول فیصل بھی یہی ہے کہ اصل سحورو افطار میں تقلیل ہے مگر حسب ضرورت اس میں تغیر ہو جا تا ہے مثلاً طلباء کی جماعت کہ ان کیلئے تقلیل طعام منافع صوم کے حاصل ہونے کے ساتھ تحصیل علم کی مضرت کو شامل ہے اسلئے ان کیلئے بہتر یہ ہے کہ تقلیل نہ کریں کہ علم دین کی اہمیت شریعت میں بہت زیادہ ہے اسی طرح ذاکرین کی جماعت علیٰ ہذا دوسری جماعتیں جو تقلیل طعام کی وجہ سے کسی دینی کام میں اہمیت کے ساتھ مشغول نہ ہو سکیں‘ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ جہاد کو تشریف لیجاتے ہوئے اعلان فرما دیا کہ سفر میں روز ہ نیکی نہیں حالانکہ رمضان المبارک کا روزہ تھا مگر اس جگہ جہاد کا نقابل آپڑا تھا‘ البتہ جس جگہ کسی ایسے دینی کام میں جو روزے سے زیادہ اہم ہو ضعف اور کسل پیدا نہ ہو وہاں تقلیل طعام ہی مناسب ہے شرح اقناع میں علامہ شعرانی ؒ سے نقل کیا ہے کہ ہم سے اس پر عہدے لئے گئے کہ پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائیں بالخصوص رمضان المبارک کی راتوں میں‘ بہتر یہ ہے کہ رمضان کے کھانے میں غیر رمضان سے کچھ تقلیل کرے اسلئے کہ افطار و سحر میں جو شخص پیٹ بھر کر کھائے اس کا روزہ ہی کیا ہے‘ مشائخ نے کہا ہے کہ جو شخص رمضان میں بھوکا رہے آئندہ رمضان تک تمام سال شیطان کے زور سے محفوظ رہتا ہے اور بھی بہت سے مشائخ سے اس باب میں شدت منقول ہے‘ شرح احیاء میں عوارف سے نقل کیا ہے کہ سہل ؒ بن عبداللہ تستری پندرہ روز میں ایک مرتبہ کھانا تناول فرماتے تھے اور رمضان المبارک میں ایک لقمہ‘ البتہ روزانہ اتباع سنت کی وجہ سے محض پانی سے روزہ افطار فرماتے تھے‘ حضرت جنید ؒ ہمیشہ روزہ رکھتے لیکن (اللہ والے) دوستوں میں سے کوئی آتا تو اسکی وجہ سے روزہ افطار فرماتے اور فرمایا کر تے تھے کہ (ایسے) دوستوں کے ساتھ کھانے کی فضیلت کچھ روزہ کی فضیلت سے کم نہیں اور بھی سلف کے ہزاروں واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ کھانے کی کمی کے ساتھ نفس کی تادیب کر تے تھے مگر شرط وہی ہے کہ اس کی وجہ سے اور دینی اہم امور میں نقصان نہ ہو۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں