فضائل رمضان المبارک کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر6)

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہو تی‘ ایک روزہ دار کی افطار کے وقت‘ دوسرے عادل بادشاہ کی دعا‘ تیسرے مظلوم کی جس کو حق تعالیٰ شانہ ُ‘ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کیلئے کھول دئیے جاتے ہیں اور ارشاد ہو تا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا‘ گو (کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہو جائے‘(ف) دو منشور میں حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے‘ جب رمضان آتا تھا تو نبی کریم ﷺ کا رنگ بدل جا تا تھا اور نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا اور دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب ہو جا تا تھا‘ دوسری روایت میں فرماتی ہیں کہ رمضان کے ختم تک بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے‘ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ُ رمضان میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرما دیتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو‘ بہت سی روایات سے رمضان کی دعا کا خصوصیت سے قبول ہونا معلوم ہو تا ہے اور یہ بے تردد بات ہے کہ جب اللہ کا وعدہ ہے‘ اور سچے رسول ؐ کا نقل کیا ہوا ہے تو اس کے پورا ہونے میں کچھ تردد نہیں لیکن اس کے بعد بھی بعض لوگ کسی غرض کے لئے دعا کر تے ہیں مگر وہ کام نہیں ہو تا‘ تو اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ دعا کے قبول ہونے کے معنی سمجھ لینا چاہیے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب مسلمان دعا کر تا ہے بشرطیکہ قطع رحمی یا کسی گناہ کی دعا نہ کرے تو حق تعالیٰ شانہ ُ کے یہاں سے تین چیزوں میں اسے ایک چیز ضرور ملتی ہے‘یا خود وہی چیز ملتی ہے جس کی دعا کی‘ یا اس کے بدلے میں کوئی برائی یا مصیبت اس سے ہٹا دی جا تی ہے‘ یا آخرت میں اسی قدر ثواب اس کے حصہ میں لگا دیا جاتا ہے‘ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ ُ بندہ کو بلا کر ارشاد فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں نے تجھے دعا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی‘وہ عرض کرے گا کہ مانگی تھی‘اس پر ارشاد ہو گا کہ تو نے کوئی دعا ایسی نہیں کی جس کو میں نے قبول نہ کیا ہو‘تو نے فلاں دعا مانگی تھی کہ فلاں تکلیف ہٹا دی جائے میں نے اس کو دنیا میں پورا کر دیا تھا اور فلاں غم کے دفع ہونے کے لئے دعا کی تھی مگر اس کا اثر کچھ تجھے معلوم نہیں ہوا‘میں نے اس کے بدلے میں فلاں اجر و ثواب تیرے لئے متعین کیا‘ حضور ؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کو ہر ہر دعا یاد کرائی جاوے گی اور اس کا دنیا میں پورا ہونا یا آخرت میں اس کا عوض بتلایا جاوے گا‘ اس اجر و ثواب کی کثرت کو دیکھ کر وہ بندہ اس کی تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا بھی پوری نہ ہوئی ہو تی کہ یہاں اس کا اس قدر اجر ملتا‘ غرض دعا نہایت ہی اہم چیز ہے‘ اسکی طرف سے غفلت بڑے سخت نقصان اور خسارہ کی بات ہے اور ظاہر میں اگر قبول کے آثار نہ دیکھیں تو بد دل نہ ہونا چاہیے‘ اس رسالہ کے ختم پر جو لمبی حدیث آ رہی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اس میں بھی حق تعالیٰ شانہ ُ بندہ ہی کے مصالح پر نظر فرماتے ہیں اگر اس کیلئے اس چیز کا عطا فرمانا مصلحت ہو تا ہے تو مرحمت فرماتے ہیں ورنہ نہیں‘ یہ بھی اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہم لوگ بسا اوقات اپنی نا فہمی سے ایسی چیز مانگتے ہیں جو ہمارے مناسب نہیں ہو تی‘اس کے ساتھ دوسری ضروری اور اہم بات قابل لحاظ یہ ہے کہ بہت سے مرد اور عورتیں تو خاص طور سے اس مرض میں مبتلا ہیں کہ بسا اوقات غصے اور رنج میں اولاد وغیرہ کو بد دعا دیتے ہیں‘ یاد رکھیں کہ اللہ جل شانہ کے عالی دربار میں بعض اوقات ایسے خاص قبولیت کے ہوتے ہیں کہ جو مانگو مل جا تا ہے‘ یہ احمق غصہ میں اول تو اولاد کو کو ستی ہیں اور جب وہ مر جا تی ہے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو جا تی ہے تو پھر روتی پھرتی ہیں اور اس کا خیال بھی نہیں آ تا کہ یہ مصیبت خود ہی اپنی بد دعا سے مانگی ہے‘نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی جانوں اور اولاد کو نیز مال اور خادموں کو بد دعا نہ دیا کرو‘مباد اللہ کے کسی ایسے خاص وقت میں واقع ہو جائے جو قبولیت کا ہے بالخصوص سے رمضان المبارک کا تمام مہینہ تو بہت ہی خاص وقت ہے اس میں اہتمام سے بچنے کی کوشش اشد ضروری ہے‘ حضرت عمر ؓ حضور اکرم ﷺ سے نقل کر تے ہیں کہ رمضان المبارک میں اللہ کو یاد کرنے والا شخص بحشا بخشا یا ہے اور اللہ سے مانگنے والا نا مراد نہیں رہتا‘ حضرت ابن مسعود ؓ کی ایک روایت سے ترغیب میں نقل کیا ہے کہ رمضان کی ہر رات میں ایک مناوی پکار تا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ اور اے برائی کے طلبگار بس کر اور آنکھیں کھول‘ اس کے بعد وہ فرشتہ کہتا ہے کہ کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے‘ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توجہ قبول کی جائے‘ کوئی دعا کرنیوالا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے‘کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے‘ اس سب کے بعد یہ امر بھی نہایت ضروری اور قابل لحاظ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے لئے کچھ شرائط بھی وارد ہوئی ہیں کہ ان کے فوت ہونے سے بسا اوقات دعا رد کر دی جا تی ہے‘ منجملہ ان کے حرام غذا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دعا رد ہو جا تی ہے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے پریشان حال آسمان کی طرف ہاتھ کھینچ کر دعا مانگتے ہیں اور یا رب یا رب کر تے ہیں مگر کھانا حرام‘پینا حرام‘لباس حرام ایسی حالت میں کہاں دعا قبول ہو سکتی ہے‘ممورخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں مستجاب ُ الدعا لوگوں کی ایک جماعت تھی‘ جب کوئی حاکم ان پر مسلط ہو تا اس کیلئے بد دعا کر تے وہ ہلاک ہو جاتا‘ حجاج ظالم کا جب وہاں تسلط ہوا تو اس نے ایک دعوت کی جس میں ان حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہو چکے تو اس نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بد دعا سے محفوظ ہو گیا کہ حرام کی روزی ان کے پیٹ میں داخل ہو گئی‘ اس کے ساتھ ہمارے زمانہ کی حلال روزی پر بھی ایک نگاہ ڈالی جائے جہاں ہر وقت سود تک کے جواز کی کوششیں جاری ہوں‘ ملازمین رشوت کو اور تاجر دھوکہ دینے کو بہتر سمجھتے ہوں۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں