فضائل رمضان المبارک۔۔۔فصل ثالث کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر2)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کیلئے نیکیاں اتنی ہی لکھی جا تی ہیں جتنی کہ کرنے والے کیلئے‘(ف)دو مخصوص منافع اعتکاف کے اس حدیث میں ارشاد فرمائے گئے ہیں‘ ایک یہ کہ اعتکاف کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہو جا تی ہے‘ ورنہ بسا اوقات کو تاہی اور لغزش سے کچھ اسباب ایسے پیدا ہو جا تے ہیں کہ اس میں آدمی گناہ میں مبتلا ہو ہی جا تا ہے اور ایسے متبرک وقت میں معصیت کا ہو جانا کس قدر ظلم عظیم ہے‘ اعتکاف کی وجہ سے ان سے امن اور حفاظت رہتی ہے دوسرے یہ کہ بہت سے نیک اعمال جیسا کہ جنازہ کی شرکت‘مریض کی عیادت وغیرہ ایسے امور ہیں کہ اعتکاف میں بیٹھ جانے کی وجہ سے معتکف ان کو نہیں کر سکتا‘اس لئے اعتکاف کی وجہ سے جن عبادتوں سے رُکا رہا ان کا اجر بغیر کئے بھی ملتا رہے گا‘ اللہ اکبر کس قدر رحمت اور فیاضی ہے کہ ایک عبادت آدمی کرے اور دس عبادتوں کا ثواب مل جائے‘ درحقیقت اللہ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے اور تھوڑی سی توجہ اور مانگ سے دھواں دار برستی ہے۔ ”ببہانہ مے و ہد ببہانمے دہد۔مگر ہم لوگوں کو سرے سے اس کی قدر ہی نہیں‘ضرورت ہی نہیں توجہ کون کرے اور کیوں کرے‘ کہ دین کی وقعت ہی ہمارے قلوب میں نہیں۔”اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر۔تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہو تا“۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں