فضائل رمضان المبارک۔۔۔فصل ثالث کتاب۔فضائل اعمال۔۔

دوسرا مرقابل غور یہ ہے کہ اس رسالہ میں چند مواقع مغفرت کے ذکر کئے گئے ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے امور ایسے ہیں کہ وہ مغفرت کے سبب ہو تے ہیں اور گناہ ان سے معاف ہو جا تے ہیں‘ اس پر ایک اشکال ہو تا ہے وہ یہ کہ جب ایک مرتبہ گناہ معاف ہو چکے تو اس کے بعد دوسری دفعہ معافی کے کیا معنی‘اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کا قاعدہ یہ ہے کہ جب وہ بندہ کی طرف متوجہ ہو تی ہے اگر اس پر کوئی گناہ ہو تا ہے تو اس کو مٹاتی ہے اور اگر اس کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہو تا تو اس کے بقدر اس پر رحمت اور انعام کا اضافہ ہو جا تا ہے‘۔
تیسرا امر یہ ہے کہ سابقہ احادیث میں بھی بعض جگہ اور اس حدیث میں ابھی حق تعالیٰ شانہ ُ نے اپنی مغفرت فرمانے پر فرشتوں کو گواہ بنایا ہے‘ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ قیامت کی عدالت کے معاملات ضابطہ پر رکھے گئے ہیں‘ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ان کی تبلیغ کے بارے میں بھی گواہ طلب کئے جائیں گے‘ چنانچہ احادیث کی کتابوں میں بہت سے مواقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم سے میرے بارے میں سوال ہو گا لہذا تم گواہ رہو کہ میں پہنچا چکا ہوں‘ بخاری وغیرہ میں روایت ہے کہ حضرت نوع ؑ قیامت کے دن بلائے جائیں گے ان سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسالت کا حق ادا کیا‘ ہمارے احکام پہنچائے وہ عرض کریں گے کہ پہنچائے تھے‘ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں احکام پہنچائے تھے‘ وہ کہیں گے ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا نہ ڈرانے والا تو حضرت نوح ؑ سے پوچھا جائے گا کہ اپنے گواہ پیش کرو‘وہ محمد ﷺ اور ان کی امت کو پیش کریں گے‘ امت محمدیہ بلائی جائے گی اور گواہی دے گی‘ بعض روایات میں آ تا ہے کہ ان سے جرح کی جائے گی کہ تم کیو کیا خبر کہ نوح ؑ نے اپنی امت کو احکام پہنچائے‘ یہ عرض کریں گے کہ ہمار ے رسول ؐ نے خبر دی‘ ہمارے رسول پر جو سچی کتاب اتری اس میں خبر دی گئی‘ اس طرح اور انبیاء کی امت کے ساتھ بھی پیش آئے گا‘ اسی کے متعلق ارشاد خدا وندی ہے‘امام فخر الدین رازی ؒ لکھتے ہیں کہ قیامت میں گواہیاں چار طرح کی ہوں گی‘ ایک ملائکہ کی‘ جس کے متعلق آیات ذیل میں تذکرہ ہے‘دوسری گواہی انبیاء ؑ کی ہو گی جس کے متعلق ارشاد ہے‘تیسری امت محمد یہ کی گواہی ہو گی جس کے متعلق ارشاد ہے‘چوتھی آدمی کی اپنے اعضاء کی گواہی جس کے معلق ارشاد ہے اختصار کے خیال سے ان آیات کا ترجمہ نہیں لکھا‘ سب آیات کا حاصل قیامت کے دن ان چیزوں کی گواہی دینے کا ذکر ہے جن کا بیان آیت کے شروع میں لکھ دیا گیا‘چوتھا امر حدیث بالا میں یہ ارشاد مبارک ہے کہ میں تم کو کفار کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا‘ یہ حق تعالیٰ شانہ ُ کا غایت درجہ کا لطف و کرم اور مسلمانوں کے حال پر غیرت ہے کہ اللہ کی رضا کے ڈھونڈنے والوں کیلئے یہ بھی لطف و انعام ہے کہ ان کی لغزشوں اور سیئات سے وہاں بھی در گذر اور پردہ پوشی کی جا تی ہے‘ عبداللہ بن عمر ؓ حضور اقدس سے نقل کر تے ہیں کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ ُ‘ ایک مومن کو اپنے قریب بلا کر اس پر پر دہ ڈال کر کہ کوئی دوسرا نہ دیکھے‘ اس کی لغزشوں اور سیئات یاد دلا کر اس سے ہر ہر گناہ کا اقرار کرائیں گے اور وہ اپنے گناہوں کی کثرت اور اقرار پر یہ سمجھے گا کہ اب ہلاکت کا وقت قریب آ گیا‘ تو ارشاد ہو گا کہ میں نے دنیا میں تجھ پر ستاری فرمائی ہے تو آج بھی ان پر پر دہ ہے اور معاف ہیں‘اس کے بعد اس کے نیک اعمال کا دفتر اس کے حوالہ کر دیا جائے گا‘ اور بھی سینکڑوں روایات سے یہ مضمون مستنبط ہو تا ہے کہ اللہ کی رضا کے ڈھونڈنے والوں‘اس کے احکام کی پابندی کرنے والوں کی لغزشوں سے در گذر کر دیا جا تا ہے‘ اسلئے نہایت اہمیت کے ساتھ ایک مضمون سمجھ لینا چاہیے کہ جو لوگ اللہ والوں کی کوتاہیوں پر ان کی غیبت میں مبتلا رہتے ہیں وہ اس کا لحاظ رکھیں کہ مبادا قیامت میں ان کے نیک اعمال کی برکت سے ان کی لعذشیں تو معاف کر دی جائیں اور پر دہ پوشی فرمائی جائے لیکن تم لوگوں کے اعمال نامے غیبت کا دفتر بنکر ہلاکت کا سبب بنیں‘ اللہ جل شانہ ُ اپنے لطف سے ہم سب سے در گذر فرما ویں‘پانچواں امر ضروری یہ ہے کہ حدیث بالا میں عید کی رات کو انعام کی رات سے پکارا گیا‘ اس رات میں حق تعالیٰ شانہ ُ کی طرف سے اپنے بندوں کو انعام دیا جاتا ہے اس لئے بندوں کو بھی اس رات کی بیحد کرنی چاہیے‘ بہت سے لوگ عوام کا تو پوچھنا ہی کیا خواص بھی رمضان کے تھکے ماندے اس رات میں میٹھی نیند سو تے ہیں‘ حالانکہ یہ رات بھی خصوصیت سے عبادت میں مشغول رہنے کی ہے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص ثواب کی نیت کرکے دونوں عیدوں میں جا گے (اور عبادت میں مشغول رہے) اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن سب کے دل مر جاویں گے (یعنی فتنہ و فساد کے وقت جب لوگوں کے قلوب پر مردنی چھاتی ہے‘ اس کا دل زندہ رہے گا اور ممکن ہے کہ صور پھونکے جانے کا دن مراد ہو کہ اس کی روح بیہوش نہ ہو گی‘ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص پانچ راتوں میں (عبادت کیلئے) جاگے اس کے واسطے جنت واجب ہو جاوے گی‘ لیلۃ الترویہ (آٹھ ذی الحجہ کی رات) لیلۃ العرفہ 9ذی الحجہ کی رات)لیلۃ النحر10ذی الحجہ کی رات اور عید الفطر کی رات اور شب برات یعنی15شعبان کی رات‘فقہاء نے بھی عیدین کی رات میں جاگنا مستحب لکھا ہے‘ماثبت باسنتہ میں امام شافعی ؒ صاحب سے نقل کیا ہے کہ پانچ راتیں دعا کی قبولیت کی ہیں‘ جمعہ کی رات‘عیدین کی راتیں‘غزہ رجب کی رات اور نصف شعبان کی رات۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں