فضائل رمضان المبارک۔۔۔فصل ثالث کتاب۔فضائل اعمال۔۔

نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ ُ رمضان کی ہر رات میں ایک منا وی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز دے کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اسکی توبہ قبول کروں‘کوئی ہے مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں‘کون ہے جو غنی کو قرض دے ایسا غنی جو نادار نہیں‘ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو ذرا بھی کمی نہیں کر تا‘ حضور ؐ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ ُ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہو تا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کئے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہو تی ہے تو حق تعالیٰ شانہ ُ حضرت جبرئیل ؑ کو حکم فرماتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں‘ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہو تا ہے جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے 100بازو ہیں جن میں سے دو بازو کو صرف اسی رات میں کھولتے ہیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں پھر حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ جو مسلمان آج کی رات کھڑا ہو یا بیٹھا ہو‘ نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہو‘ اس کو سلام کریں اور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں‘ صبح تک یہی حالت رہتی ہے‘ جب صبح ہو جا تی ہے تو جبرئیل ؑ آواز دیتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعت اب کوچ کر و اور چلو‘ فرشتے حضرت جبرئیل ؑ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے احمد ﷺ کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا‘ صحابہ ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ چار شخص کون ہیں‘ ارشاد ہوا کہ ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو‘دوسرا وہ شخص جو والدین کی نا فرمانی کرنیوالا ہو‘ تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ تورنے والا ہو‘ چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق کرنیوالا ہو‘ پھر جب عید الفطر کی رات ہو تی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) لیلۃ الجائز ہ (انعام کی رات) سے لیا جا تا ہے اور جب عید کی صبح ہو تی ہے تو حق تعالیٰ شانہ ُ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں‘ وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں‘راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جا تے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت اس کریم رب کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے‘ پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ ُ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں‘ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو‘ وہ عرض کر تے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے‘ تو حق تعالیٰ شانہ ُ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہو تا ہے کہ اے میرے بندو مجھ سے مانگو‘میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخر کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کرونگا‘میری عزت کی قسم کی جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کر تا رہوں گا (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کرونگا‘بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ‘ تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا‘ پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جا تے ہیں‘(ف) اس حدیث کے اکثر مضامین رسالہ کے گذشتہ اوراق میں بیان ہو چکے ہیں البتہ چند امور قابل غور ہیں جن میں سب سے اول اور اہم تویہ ہے کہ بہت سے محروم رمضان کی مغفرت عامہ سے بھی مستثنیٰ تھے جیسا کہ پہلی روایات میں معلوم ہو چکا ہے اور وہ عید کی اس مغفرت عامہ سے بھی مستثنیٰ کر دئیے گئے‘ جن میں سے آپس کے لڑنے والے اور والدین کی نا فرمانی کرنے والے بھی ہیں‘ ان سے کوئی پوچھے کہ تم نے اللہ کو ناراض کرکے اپنے لئے کون سا ٹھکانہ ڈھونڈ رکھا ہے افسوس تم پر بھی اور تمہاری اس عزت پر بھی جس کے حاصل کرنے کے غلط خیال میں تم رسول اللہ کی بد دعائیں برداشت کر رہے ہو‘ جبرئیل ؑ کی بد دعائیں اٹھا رہے ہو اور اللہ کی رحمت و مغفرت عامہ سے بھی نکالے جا رہے ہو‘ میں پوچھتا ہوں کہ آج تم نے اپنے مقابل کوزک دے ہی دی‘اپنی مونچھ اونچی کر ہی لی‘وہ کتنے دن تمہارے ساتھ رہ سکتی ہے جبکہ اللہ کا پیارا رسول ؐ تمہارے اوپر لعنت کر رہا ہے‘ اللہ کا مقرب فرشتہ تمہاری ہلاکت کی بد دعا دے رہا ہے‘ اللہ جل شانہ ُ تمہیں اپنی مغفرت و رحمت سے نکال رہے ہیں‘ اللہ کے واسطے سو چو اور بس کرو‘ صبح کا بھٹکا شام کو گھر آجائے تو کچھ نہیں گیا‘آج وقت ہے اور تلافی ممکن‘اور کل جب ایسے حاکم کی پیشی میں جانا ہے جہاں نہ عزت ووجاہت کی پوچھ‘نہ مال و متاع کار آمد‘وہاں صرف تمہارے اعمال کی پوچھ ہے اور ہر حرکت لکھی لکھائی سامنے ہے‘ حق تعالیٰ شانہ ُ اپنے حقوق میں در گذر فرماتے ہیں مگر بندوں کے آپس کے حقوق میں بغیر بدلہ دئیے نہیں چھوڑتے‘ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مفلس میری امت میں وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن نیک اعمال کے ساتھ آوے اور نماز روزہ صدقہ سب ہی کچھ لا وے لیکن کسی کو گالی دے رکھی ہے‘ کسی کو تہمت لگا دی تھی‘کسی کو مار پیٹ کی تھی‘ پس یہ سب دعویدار آویں گے اور اس کے نیک اعمال میں سے ان حرکتوں کا بدلہ وصول کر لیں گے اور جب اس کے پاس نیک اعمال ختم ہو جاویں گے تو اپنی برائیاں ان حرکتوں کے بدلہ میں اس پر ڈالتے رہیں گے اور پھر اس انبار کی بدولت وہ جہنم رسید ہو جائے گا اور اپنی کثرت اعمال کے باوجود جو حسرت و یاس کا عالم ہو گا وہ محتاج بیان نہیں‘۔”وہ مایوس تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے۔۔کہ جو منزل بمنزل اپنی محنت رائیگاں دیکھے“۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں