فضائل رمضان المبارک۔۔۔فصل ثالث کتاب۔فضائل اعمال۔۔(قسط نمبر3)

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہو تا حضرت ابن عباس ؓ ایک مرتبہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں معتکف تھے آپکے پاس ایک شخص آیا اور سلام کرکے (چپ چاپ) بیٹھ گیا‘ حضرت ابن عباس ؓ نے اس سے فرمایا کہ میں تمہیں غمزدہ اور پریشان دیکھ رہا ہوں کیا بات ہے اس نے کہا اے رسول اللہ کے چچا کے بیٹے میں بیشک پریشان ہوں کہ فلاں کا مجھ پر حق ہے اور (نبی کریم ﷺ کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ) اس قبر والے کی عزت کی قسم میں اس حق کے ادا کرنے پر قادر نہیں‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اچھا کیا میں اس سے تیری سفارش کروں اس نے عرض کیا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں‘ ابن عباس ؓ یہ سنکر جو تا پہن کر مسجد سے باہر تشریف لائے‘ اس شخص نے عرض کیا کہ آپ اپنا اعتکاف بھول گئے فرمایا بھولا نہیں ہوں بکلہ میں نے اس قبر والے (ﷺ) سے سنا ہے اور ابھی زمانہ کچھ زیادہ نہیں گذرا (یہ لفظ کہتے ہوئے) ابن عباس ؓ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کہ حضور ؐ فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کیلئے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ ُ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خند قیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے (اور جب ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو دس برس کے اعتکاف کی کیا کچھ مقدار ہو گی)۔(ف)اس حدیث سے دو مضمون معلوم ہوئے‘ اول یہ کہ ایک دن کے اعتکاف کا ثواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ُ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل فرما دیتے ہیں اور ہر خندق اتنی بڑی ہے جتنا سارا جہاں اور ایک دن سے زیادہ جس قدر زیادہ دنوں کا اعتکاف ہو گا اتنا ہی اجر زیادہ ہو گا‘علامہ شعرانی ؒ نے کشف الغمہ میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص عشرہ رمضان کا اعتکاف کر ے اس کو دو حج اور دو عمروں کا اجر ہے اور جو شخص مسجد جماعت میں مغرب سے عشاء تک کا اعتکاف کرے کہ نماز‘ قرآن کے علاوہ کسی سے بات نہ کرے حق تعالیٰ شانہ ُ اس کیلئے جنت میں ایک محل بناتے ہیں‘دوسرا مضمون جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے وہ مسلمانوں کی حاجت روائی ہے کہ دس برس کے اعتکاف سے افضل ارشاد فرمایا ہے اسی وجہ سے ابن عباس ؓ نے اپنے اعتکاف کی پرواہ نہیں فرمائی کہ اس کی تلافی پھر بھی ہو سکتی ہے اور اس کی قضا ممکن ہے اسی وجہ سے صوفیاء کا مقولہ ہے کہ اللہ جل شانہ ُ کے یہاں ٹوٹے ہوئے دل کی جتنی قدر ہے اتنی کسی چیز کی نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ مظلوم کی بد دعا سے احادیث میں بہت ڈرایا گیا ہے‘ حضور ؐ جب کسی شخص کو حاکم بنا کر بھتیجے تھے اور نصائح کے ساتھ ارشاد فرماتے تھے کہ مظلوم کی بد دعا سے بچیو۔ ”بترس ازآہ مظلوماں کی ہنگام دعا کر دن۔۔اجابت ازدر حق بہراستقبال می آید“۔ اس جگہ ایک مسئلہ کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی مسلمان کی حاجب روائی کے لئے بھی مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اور اگر اعتکاف واجب ہو تو اس کی قضاء واجب ہو تی ہے نبی کریمﷺ ضرورت بشری کے علاوہ کسی ضرورت سے بھی مسجد سے باہر تشریف نہیں لاتے تھے‘ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ ایثار کہ دوسرے کی وجہ سے اپنا اعتکاف توڑ دیا‘ ایسے ہی لوگوں کے مناسب ہے کہ دوسروں کی خاطر خود پیا سے تڑپ تڑپ کر مر جاویں مگر پانی کا آخری قطرہ اس لئے نہ پیئں کہ دوسرا زخمی جو پاس لیٹا ہو ا ہے وہ اپنے سے مقدم ہے‘یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ اعتکاف نفلی اعتکاف ہو‘ اس صورت میں کوئی اشکال نہیں‘ خاتمہ میں ایک طویل حدیث جس میں کئی نوع کے فضائل ارشاد فرمائے ہیں ذکر کر کے اس رسالہ کو ختم کیا جا تا ہے۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں