فضائل ذکر۔۔گناہوں کی نحوست سے ایمان جا تا رہتا ہے‘لا الہ الا اللہ عرش تک پہنچتا ہے

حضرت شداد ؓ فرماتے ہیں اور حضرت عبادۃ ؓاس واقعہ کی تصدیق کر تے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضور اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر تھے‘حضور ﷺ نے دریافت فرمایا‘کوئی اجنبی (غیر مسلم) تو مجمع میں نہیں‘

ہم نے عرض کیا کوئی نہیں ارشادفرمایا کو اڑ بند کر دو اس کے بعد ارشاد فرمایا ہاتھ اٹھاؤ اور کہو لا الہ الا اللہ ہم نے تھوڑی دیر ہاتھ اٹھائے رکھے (اور کلمہ طیبہ پڑھا) پھر فرمایا الحمد للہ اے اللہ تونے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اس کلمہ پر جنت کا وعدہ کیا ہے اور تو وعدہ خلاف نہیں ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ خوش ہو جاؤ‘اللہ نے تمہاری مغفرت فرما دی۔(ف) غالباً اجنبی کو اسی لئے دریافت فرمایا تھا اور اسی لئے کو اڑ بند کر ائے تھے کہ ان لوگوں کے کلمہ لیبہ پڑھنے پر تو حضور اقدس ﷺ کو مغفرت کی بشارت کی امید ہو گی‘

اوروں کے متعلق یہ امید نہ ہو‘ صوفیہ نے اس حدیث سے مشائخ کا اپنے مریدین کی جماعت کو ذکر تلقین کرنے پر استد لال کیا ہے چنانچہ جامع الا صول میں لکھا ہے‘ حضور ﷺ کا صحابہ ؓ کو جماعۃ ً اور منفرد اً ذکر تلقین کرنا ثابت ہے‘ جماعت کو تلقین کرنے میں اس حدیث کو پیش کیا ہے‘

اس صورت میں کواڑوں کا بند کرنا مستفید ین کی توجہ کے تام کرنے کی غرض سے ہو اور اسی وجہ سے اجنبی کو دریافت فرمایا کہ غیر کا مجمع میں ہونا حضور ؐپر تشتت کا سبب اگر چہ نہ ہو لیکن مستفید ین کے تشتت کا احتمال تو تھا ہی۔”چہ خوش است باتو بزمے بنہفتہ ساز کردن۔

درخانہ بند کر دن سر شیشہ باز کر دن“۔(کیسی مزے کی چیز ہے تیرے ساتھ خفیہ ساز کر لینا‘گھر کا دروازہ بند کر لینا اور بوتل کا منہ کھول دینا)۔(کتاب۔۔فضائل اعمال)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں