فضائل ذکر۔۔ایمان کی تجدید اور کلمہ کی کثرت کا حکم

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کر تے رہا کرو یعنی تازہ کر تے رہا کر و‘صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ایمان کی تجدید کس طرح کریں؟

ارشاد فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کو کثرت سے پڑھتے رہا کر و۔(ف) ایک روایت میں حضور اقدسﷺ کا ارشاد وارد ہوا ہے کہ ایما ن پرانا ہو جا تا ہے جیسا کہ کپڑا پرانا ہو جا تا ہے اس لئے اللہ جل شانہ ُ سے ایمان کی تجدید مانگتے رہا کرو‘

پرانے ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ معاصی سے قوت ایمانیہ اور نور ایمان جا تا رہتا ہے چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ کوئی گناہ کر تا ہے تو ایک سیاہ نشان (دھبہ) اس کے دل میں ہو جا تا ہے اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ نشان دھل جا تا ہے ورنہ جما رہتا ہے اور پھر جب دوسرا گناہ کر تا ہے تو دوسرا نشان ہو جا تا ہے

اسی طرح سے آخر دل بالکل کالا ہو جا تا ہے اور زنگ آلود ہو جا تا ہے جس کو حق تعالیٰ شانہ ُ نے سورۂ تطفیف میں ارشاد فرمایا ہے‘اس کے بعد اس کے دل کی حالت ایسی ہو جا تی ہے کہ حق بات اس میں اثر اور سرایت ہی نہیں کر تی‘ایک حدیث میں آیا ہے‘کہ چار چیزیں آدمی کے دل کو برباد کر دیتی ہیں‘

احمقوں سے مقابلہ‘گناہوں کی کثرت‘عورتوں کے ساتھ کثرت اختلاط اور مروہ لوگوں کے پاس کثرت سے بیٹھنا‘ کسی نے پوچھا مردوں سے کیا مراد ہے فرمایا ہر وہ مالدار جس کے اندر مال نے اکٹر پیدا کر دی ہو۔(کتاب۔۔فضائل اعمال)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں