غزوہ موتہ کا قصہ

حضور اقدس ﷺ نے مختلف بادشاہوں کے پاس تبلیغی دعوت نامے ارسال فرمائے تھے‘ ان میں ایک خط حضرت حارث بن عمیر ؓ ازدی کے ہاتھ بصریٰ کے بادشاہ کے پاس بھی بھیجا تھا جب یہ موتہ پہنچے تو شرحبیل غسانی نے جو قیصر کے حکام میں سے ایک شخص تھا ان کو قتل کر دیا‘ قاصدوں کا قتل کسی کے نزدیک بھی پسندیدہ نہیں‘ حضور ؐکو یہ بات بہت گراں ہوئی اور آپ ؐ نے تین ہزار کا ایک لشکر تجویز فرما کر حضرت زید بن حارثہ ؓ کو ان پر امیر مقرر فرما یا اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب ؓ امیر بنائے جائیں‘ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ؓ امیر ہوں‘ وہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر مسلمان جس کو دل چاہے امیر بنالیں‘ایک یہودی اس گفتگو کو سن رہا تھا‘ اس نے کہا یہ تینوں تو ضرور شہیدہوں گے پہلے انبیا ؑ کی اس قسم کی کلام کا یہی مطلب ہو تا ہے حضور اقدس ﷺ نے ایک سفید جھنڈا بنا کر حضرت زید ؓکے حوالے فرمایا اور خود مع ایک جماعت کے ان حضرات کو رخصت فرمانے تشریف لے گئے‘ شہر کے باہر جب پہنچانے والے واپس آنے لگے تو ان مجاہدین کے لئے دعا کی کہ حق تعالیٰ شانہ تم کو سلامتی کے ساتھ کامیابی کے ساتھ واپس لائے اور ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھے‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اس کے جواب میں تین شعر پڑھے جن کا مطلب یہ تھا کہ میں تو اپنے رب سے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ ایک ایسی تلوار ہو جس سے میرے خون کے فوارے چھوٹنے لگیں یا ایسا برچھا ہو جو آنتوں اور کلیجہ کو چیرتا ہوا نکل جائے اور جب لوگ میری قبر پر گذریں تو یہ کہیں کہ اللہ تجھ غازی کو رشید اور کامیاب کرے واقعی تو تو رشید اور کامیاب تھا‘ اس کے بعد یہ حضرات روانہ ہو گئے شرحبیل کو بھی ان کی روانگی کا علم ہوا وہ ایک لاکھ فوج کے ساتھ مقابلہ کیلئے تیار ہوا‘ یہ حضرات کچھ آگے چلے تو معلوم ہوا کہ خود ہر قل روم کا بادشاہ بھی ایک لاکھ فوج ساتھ لئے ہوئے مقابلہ کے لئے آ رہا ہے‘ ان حضرات کو اس خبر سے تردد ہوا‘ کہ اتنی بڑی جمعیت کا مقابلہ کیا جاوے یا حضور اقدس ﷺ کو اطلاع دی جاوے‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓنے للکار کر فرمایا‘ اے لوگو! تم کس بات سے گھبرا رہے ہو‘ تم کس چیز کے ارادہ سے نکلے ہو‘تمہارا مقصود شہید ہو جانا ہے‘ ہم لوگ کبھی بھی قوت اور آدمیوں کی کثر ت کے زور پر نہیں لڑے‘ ہم صرف اس دین کی وجہ سے لڑے ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے ہمیں اکرام نصیب فرمایاہے‘آگے بڑھو‘ دو کامیابیوں میں سے ایک تو ضروری ہے یا شہادت یا غلبہ‘یہ سن کر مسلمانوں نے ہمت کی اور آگے بڑھ گئے‘حتیٰ کہ موتہ پر پہنچ کر لڑائی شروع ہو گئی‘حضرت زید ؓنے جھنڈا ہاتھ میں لیا اور میدان میں پہنچے‘گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی‘شرحبیل کا بھائی بھی مارا گیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے‘خود شرحبیل بھی بھاگ کر ایک قلعہ میں چھپ گیا اور ہر قل کے پاس مدد کیلئے آدمی بھیجا اس نے تقریباً دو لاکھ فوج بھیجی اور لڑائی زور سے ہو تی رہی‘ حضرت زید ؓشہید ہو ئے تو حضرت جعفر ؓ نے جھنڈا لیا اور اپنے گھوڑے کے خود ہی پاؤں کاٹ دئیے تاکہ واپسی کا خیال بھی دل میں نہ آئے اور چند اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے‘ اے لوگو! کیا ہی اچھی چیز ہے جنت اور کیا ہی اچھا ہے اس کا قریب ہونا‘کتنی بہترین چیز ہے اور کتنا ٹھنڈا ہے اس کا پانی اور ملک روم کے لوگوں پر عذاب کا وقت آ گیا‘ مجھ پر بھی لازم ہے کہ ان کو ماروں‘ یہ اشعار پڑھے اور اپنے گھوڑے کے پاؤں خود ہی کاٹ چکے تھے کہ واپسی کا خیال بھی دل میں نہ آوے اور تلوار لے کر کافروں کے مجمع میں گھس گئے‘ امیر ہونے کی وجہ سے جھنڈا بھی انہی کے پاس تھا‘ اول جھنڈا دائیں ہاتھ میں لیا‘ کافروں نے دایاں ہاتھ کاٹ دیا کہ جھنڈا گر جائے‘ انہوں نے فوراً بائیں ہاتھ میں لیا‘انہوں نے وہ بھی کاٹا تو انہوں نے دونوں بازوؤں سے اس کو تھاما اور منہ سے مضبوط پکڑ لیا‘ایک شخص نے پیچھے سے ان کے دو ٹکڑے کر دئیے جس سے یہ گر پڑے‘اس وقت ان کی عمر 33سال کی تھی‘حضرت عبداللہ بن ؓ عمر کہتے ہیں کہ ہم نے بعد میں نعشوں میں سے حضرت جعفر ؓ کو جب اٹھایا تو ان کے بدن کے اگلے حصہ میں نوے زخم تھے‘جب یہ شہید ہو گئے تو لوگوں نے عبداللہ بن رواحہ ؓکو آواز دی‘ وہ لشکر کے ایک کونہ میں گوشت کا ٹکڑا کھا رہے تھے کہ تین دن سے کچھ چکھنے کو بھی نہ ملا تھا‘وہ آواز سنتے ہی گوشت کے ٹکڑے کو پھینک کر اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے کہ جعفر ؓ تو شہید ہو جائیں اور تو دنیا میں مشغول رہے‘ آگے بڑھے اور جھنڈا لے کر قتال شروع کر دیا‘ انگلی میں زخم آیا وہ لٹک گئی تو انہوں نے پاؤں سے اس کٹی ہوئی انگلی کو دبا کر ہاتھ کھینچا وہ الگ ہو گئی‘اس کو پھینک دیا اور آگے بڑھے‘ اس گھمسان اور پریشانی کی حالت میں تھوڑا سا تردد بھی پیش آیا کہ نہ ہمت نہ مقابلہ کی طاقت‘لیکن اس تردد کو تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ اپنے دل کو مخاطب بنا کر کہا‘او دل کس چیز کا اب اشتیاق باقی ہے جس کی وجہ سے تردد ہے‘ کیا بیوی کا ہے تو اس کو تین طلاق‘یا غلاموں کا ہے تو وہ سب آزاد‘یا باغ کا ہے تو وہ اللہ کے راستہ میں صدقہ‘اس کے بعد چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے‘ قسم ہے او دل تجھے اترنا ہو گا‘خوشی سے اتر یا نا گواری سے اتر‘تجھے اطمینان کی زندگی گذارتے ہوئے ایک زمانہ گذر چکا‘ سوچ تو آخر تو ایک قطرہ منی ہے‘ دیکھ کافر لوگ مسلمانوں پر کھنچے ہوئے آ رہے ہیں‘ تجھے کیا ہوا کہ جنت کو پسند نہیں کر تا‘ اگر تو قت نہ ہوا تو ویسے بھی آخر مرے ہی گا‘اس کے بعد گھوڑے سے اترے‘ ان کے چچا زاد بھائی گوشت کا ایک ٹکڑا لائے کہ ذرا سا کھا لو‘کمر سیدھی کر لو‘کئی دن سے کچھ نہیں کھایا‘ انہوں نے لے لیا‘ اتنے میں ایک جانب سے ہلے کی آواز آئی‘اس کو پھینک دیا اور تلوار لے کر جماعت میں گھس گئے اور شہید ہونے تک تلوار چلا تے رہے‘ (ف)صحابہ ؓ کی پوری زندگی کا یہی نمونہ ہے‘ ان کا ہر ہر قصہ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کے شوق کا سبق دیتا ہے‘ صحابہ کرام ؓ کا تو پوچھنا ہی کیا تابعین پر بھی یہی رنگ چڑھا ہوا تھا‘ ایک قصہ پر اس باب کو ختم کر تا ہوں جو دوسرے رنگ کا ہے دشمن سے مقابلہ کے نمونے تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں‘ اب حکومت کے سامنے کا منظر بھی دیکھ لیجئے‘ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے‘ بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔(کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں