علمی ولولہ اور اس کا انہماک

چونکہ اصل دین کلمہ توحید ہے اور وہی سب کمالات کی بنیاد ہے‘جب تک وہ نہ ہو کوئی کار خیر بھی مقبول نہیں‘اس لئے صحابہ کرام ؓ کی ہمت بالخصوص ابتدائی زمانہ میں زیادہ تر کلمہ توحید کے پھیلانے اور کفار سے جہاد کرنے میں مشغول تھی اور وہ علمی انہماک کیلئے فارغ ویکسو نہ تھے لیکن اس کے باوجود ان مشاغل کے ساتھ ان کا انہماک اور شوق و شغف جس کا شرہ آج چودہ سو برس تک علوم قرآن و حدیث کا بقا ہے‘ ایک کھلی ہوئی چیز ہے‘ ابتدائے اسلام کے بعد جب کچھ فراغت ان حضرات کو میسر ہو سکی اور جماعت میں بھی کچھ اضافہ ہوا تو آیت کلام اللہ نازل ہوئی جس کا ترجمہ یہ ہے‘ مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جاوے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جا یا کرے تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ وہ قوم کو جب وہ ان کے پاس واپس آویں‘ڈراویں تاکہ وہ احتیاط رکھیں‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں‘صحابہ کرام ؓ کو حق تعالیٰ شانہ نے جامعیت عطا فرمائی تھی اور اس وقت کے لئے یہ چیز نہایت ہی ضروری تھی کہ وہی ایک مختصر سی جماعت دین کے سارے کام سنبھالنے والی تھی‘ مگر تابعین کے زمانہ میں جب اسلام پھیل گیا اور مسلمانوں کی بڑی جماعت اور جمعیت ہوئی نیز صحابہ کرام ؓ جیسی جامعیت بھی باقی نہ رہی تو ہر ہر شعبہ دین کیلئے پوری تو جہ سے کام کرنے والے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے‘ محدثین کی مستقل جماعت بننی شروع ہو گئی جن کا کام احادیث کا ضبط اور ان کا پھیلانا تھا‘فقہا ء کی علیحدہ جماعت ہوئی‘ صوفیا ء‘قراء‘مجاہدین غرض دین کے ہر ہر شعبہ کو مستقل سنبھالنے والے پیدا ہوئے‘اس وقت کیلئے یہ ہی چیز مناسب اور ضروری تھی‘ اگر یہ صورت نہ ہو تی تو ہر شعبہ میں کمال اور ترقی دشوار تھی‘ اقس لئے ہر شخص تمام چیزوں میں انتہائی کمال پیدا کرلے‘یہ بہت دشوار ہے‘ یہ صفت حق تعالیٰ شانہ نے انبیاء ؑ بالخصوص سید الانبیاء ؑ ہی کو عطا فرمائی تھی‘اس لئے اس باب میں صحابہ کرام ؓ کے علاوہ اور دیگر حضرات کے واقعات بھی ذکر کئے جائیں گے۔ (کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں