حضور ؐکی شفاعت کے انواع

حضرت زید بن ارقم ؓحضور ﷺ سے نقل کر تے ہیں جو شخص اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے وہ جنت میں داخل ہو گا کسی نے پوچھا کہ کلمہ کے اخلاپ (کی علامت) کیا ہے آپ نے فرمایا کہ حرام کاموں سے۔

(ف) اور یہ ظاہر ہے کہ جب حرام کاموں سے رک جائے گا اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہو گا تو اس کے سید ھا جنت میں جانے میں کیا تردد ہے لیکن اگر حرام کاموں سے نہ بھی رکے تب بھی اس کلمہ پاک کی یہ برکت تو بلا تردد ہے کہ اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنے کے بعد کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور داخل ہو گا البتہ اگر خدانخواستہ بد اعمالیوں کی بد ولت اسلام و ایمان ہی سے محروم ہو جائے تو دوسری بات ہے‘

حضرت فقیہ ابو اللیث سمر قندی ؒ ”تنبیہ ُ العافلین“ میں لکھتے ہیں ہر سخض کے لئے ضرورتہے کہ کثرت سے لا الہ الا اللہ پڑھتا رہا کرے اور حق تعالیٰ شانہ ُ سے ایمان کے باقی رہنے کی دعا بھی کر تا رہے اور اپنے کو گناہوں سے بچاتا رہے اس لئے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ گناہوں کی نحوست سے آخر میں ان کا ایمان سلب ہو جا تا ہے اور دنیا سے کفر کی حالت میں جا تے ہیں اس سے بڑ ھ کر اور کیا مصیبت ہو گی کہ ایک شخص کا نام ساری عمر مسلمانوں کی فہرست میں رہا ہو مگر قیامت میں وہ کافروں کی فہرست میں ہو یہ حقیقی حسرت اور کمال حسرت ہے‘

اس شخص پر افسوس نہیں ہو تا جو گر جایا بت خانہ میں ہمیشہ رہا ہو اور وہ کافر وں کی فہرست میں آخر میں شمار کیا جائے‘ افسوس اس پر ہے جو مسجد میں رہا ہو اور کافروں میں شمار ہو جائے اور یہ بات گناہوں کی کثرت سے اور تنہائیوں میں حرام کاموں میں مبتلا ہونے سے پیدا ہو تی ہے‘

بہت سے لوگ ایسے ہو تے ہیں جن کے پاس دوسروں کا مال ہو تا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دوسروں کا ہے مگر دل کو سمجھاتے ہیں کہ میں کسی وقت اس کو واپس کر دوں گا اور صاحب حق سے معاف کرالوں گا مگر اس کی نوبت نہیں آ تی اور موت اس سے قبل آ جا تی ہے‘ بہت سے لوگ ہیں کہ بیوی کو طلاق ہو جا تی ہے اور وہ اس کو سمجھتے ہیں مگر پھر بھی اس سے ہمبستری کر تے ہیں اور اسی حالت میں موت آ جا تی ہے کہ توبہ کی بھی توفیق نہیں ہو تی ہے‘ ایسے ہی حالات میں آخر میں ایمان سلب ہو جا تا ہے‘

حدیث کی کتابوں میں ایک قصہ لکھا ہے کہ حضور ؐکے زمانہ میں ایک نوجوان کا انتقال ہونے لگا‘ حضور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اس سے کلمہ نہیں پڑھا جا تا‘ حضور ﷺ تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا کیا بات ہے‘ عرض کیا یا رسول اللہ ایک قفلسا دل پر لگا ہوا ہے تحقیق حالات سے معلوم ہوا کہ اس کی ماں اس سے ناراض ہے اور اس نے ماں کو ستایا ہے‘

حضور ﷺنے ماں کو بلایا اور دریافت فرمایا کہ اگر کوئی شخص بہت سی آگ جلا کر اس تمہارے لڑکے کو اس میں ڈالنے لگے تو تم سفارش کرو گی‘اس نے عرض کیا‘ ہاں حضور کروں گی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو اس کا قصور معاف کر دے‘ انہوں نے سب معاف کر دیا‘ پھر اس سے کلمہ پڑھنے کو کہا گیا تو فوراً پڑھ لیا‘ حضور ﷺ نے اللہ کا شکر اداکیا کہ حضور ﷺ کی وجہ سے انہوں نے آگ سے نجات پائی‘اس قسم کے سینکڑوں واقعات پیش آ تے ہیں کہ ہم لوگ ایسے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں جن کی نحوست دین اور دنیا دونوں میں نقصان پہنچا تی ہے‘

صاحب احیاء نے لکھاہے کہ ایک مرتبہ حضور ؐنے خطبہ پڑھا‘ جس میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کو اس طرح سے کہے کہ خلط ملط نہہو تو اس کیلئے جنت واجب ہو جا تی ہے‘ حضرت علی ؓنے عرض کیا کہ حضور ؐ اس کو واضح فرما دیں خلط ملط کا کیا مطلب ہے‘ ارشاد فرمایا کہ دنیا کی محبت اور اس کی طلب میں لگ جانا‘بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ انبیاء کی سی با تیں کر تے ہیں اور متکبر اور جابر لوگوں کے سے عمل کر تے ہیں اگر کوئی اس کلمہ کو اس طرح کہے کہ یہ کام نہ کر تا ہو تو جنت اس کیلئے واجب ہے۔(کتاب۔۔فضائل اعمال)

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں