حضرت نوح ؑ کی اپنے بیٹوں کو وصیت

حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں ایک شخص گاؤں کا رہنے والا آیا جو ریشمی جبہ پہن رہا تھا اور اس کے کناروں پر دیبا کی گوٹ تھی ( صحابہؓ سے خطاب کر کے ) کہنے لگا کہ تمہارے ساتھی ( محمد ﷺ ) یہ چاہتے ہیں کہ ہر چروا ہے ( بکری چرانے والے ) اور ورواہے زادے کو بھا دیں اور شہسوار اور شہسواروں کی اولاد کو گرادی ‘حضور ﷺ ناراضگی سے اٹھے اور اس کے کپڑوں کو گریبان سے پکڑ کر ذرا کھینچا اور ارشاد فرمایا ہ ( توہی بتا ) تو بیوقوفو ں کے سے کپڑے نہیں پہن رہا ہے پھر اپنی جگہ واپس آ کر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ حضرت نوح ؑ کا جب انتقال ہونے لگا تو اپنے دونوں صاحبزادوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں ( آخری ) وصیت کر تا ہوں جس میں دو چیزوں سے روکتا ہوں اور دو چیزوں کا حکم کر تا ہوں جن سے روکتا ہوں ایک شرک ہے دوسرا تکبر اور جن چیزوں کا حکم کرتا ہوں ایک لا الہ الا اﷲ ہے کہ تمام آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اگر سب ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے میں ( اخلاص سے کہا ہوا ) لا الہ الا اﷲ رکھ دیا جائے تو وہی پلڑا جھک جائے گا اور اگر تمام آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے ایک حلقہ بنا کر اس پاک کلمہ کو اس پر رکھ دیا جائے تو وہ وزن سے ٹوٹ جائے اور دوسری چیز جس کا حکم کرتا ہوں وہ سبحان اﷲ وبحمد ہے کہ یہ دو لفظ ہر مخلوق کی نماز ہیں اور انہیں کی برکت سے ہر چیز کو رزق عطا فرمایا جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں