حضرت سعید بن جبیر ؒاور حجاج کی گفتگو

حجاج کا ظلم و ستم دنیا میں مشہور ہے گو اس زمانہ کے بادشاہ باوجود ظلم و ستم کے دین کی اشاعت کا کام بھی کر تے رہتے تھے لیکن پھر بھی دین دار اور عادل بادشاہوں کے لحاظ سے وہ بد ترین شمار ہو تے تھے اور اس وجہ سے لوگ ان سے بیزار تھے‘ سعید بن جبیر ؒ نے بھی ابن الاشعث کے ساتھ مل کر حجاج کا مقابلہ کیا‘ حجاج‘عبدالملک بن مروان کی طرف سے حاکم تھا‘ سعید بن جبیر مشہور تابعی ہیں اور بڑے علماء میں سے ہیں‘حکومت اور بالخصوص حجاج کو ان سے بغض و عداوت تھی اور چونکہ مقابلہ کیا تھا اس لئے عداوت کا ہونا بھی ضروری تھا‘ مقابلہ میں حجاج ان کو گرفتار نہ کر سکا‘ یہ شکست کے بعد چھپ کر مکہ مکرمہ چلے گئے‘ حکومت نے اپنے ایک خاص آدمی کو مکہ کا حاکم بنایا اور پہلے حاکم کو اپنے پاس بلا لیا‘ اس نئے حاکم نے جا کر خطبہ پڑھا جس کے اخیر میں عبدالملک بن مروان بادشاہ کا یہ حکم بھی سنایا کہ جو شخص سعید بن جبیر ؒ کو ٹھکانہ دے اس کی خیر نہیں اس کے بعد اس حاکم نے خود اپنی طرف سے بھی قسم کھائی کہ جس کے گھر میں بھی وہ ملے گا اس کو قتل کیا جائے گا اور اس کے گھر کو نیز اس کے پڑوسیوں کے گھر کو ڈھاؤں گا‘ غرض بڑی دقت سے مکہ کے حاکم نے ان کو گرفتار کر کے حجاج کے پاس بھیج دیا‘ اس کو غصہ نکالنے اور ان کو قتل کرنے کا موقع مل گیا‘ سامنے بلایا اور پوچھا‘حجاج!تیرا نام کیا ہے‘سعید!میرا نام سعید ہے‘ حجاج: کس کا بیٹا ہے‘سعید: جیر کا بیٹا ہوں (سعید کا ترجمہ نیک بخت ہے اور جیر کے معنی اصلاح کی ہوئی چیز) اگر چہ ناموں میں معنی اکثر مقصود نہیں ہو تے لیکن حجاج کو ان کے نام کا اچھے معنی والا ہونا پسند نہیں آیا‘اس لئے کہا‘ نہیں تو شقی بن کسیر ہے (شقی کہتے ہیں بد بخت کو اور کسیر ٹوٹی ہوئی چیز) سعید!میری والدہ میرا نام تجھ سے بہتر جا نتی تھیں‘حجاج!تو بھی بد بخت اور تیری ماں بھی بد بخت‘سعید!غیب کا جاننے والا تیرے علاوہ اور ہے (یعنی علام الغیوب) حجاج: دیکھ میں اب تجھے موت کے گھاٹ اتارتا ہوں‘سعید: تو میری ماں نے میرا نام درست رکھا‘ حجاج‘اب میں تجھ کو زندگی کے بدلہ کیسا جہنم رسید کر تا ہوں‘سعید: اگر میں جانتا کہ یہ تیرے اختیار میں ہے تو تجھ کو معبود بنا لیتا‘ حجاج: حضور اقدس ﷺ کی نسبت تیرا کیا عقیدہ ہے‘ سعید: وہ رحمت کے نبی تھے اور اللہ کے رسول تھے جو بہترین نصیحت کے ساتھ تمام دنیا کی طرف بھیجے گئے‘حجا ج:خلفا ء کی نسبت تیرا کیا خیال ہے‘ سعید: میں ان کامحافظ نہیں ہوں‘ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے‘ حجاج: میں ان کو برا کہتا ہوں یا اچھا‘ سعید: جس چیز کا مجھے علم نہیں میں اس میں کیا کہہ سکتا ہوں‘مجھے اپنا ہی حال معلوم ہے‘ حجاج: ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ تیرے نزدیک کون ہے‘ سعید: جو سب سے زیادہ میرے مالک کو راضی کرنے والا تھا‘ بعض کتب میں بجائے اس کے یہ جواب ہے کہ ان کے حالات بعض کو بعض پر ترجیح دیتے ہیں‘حجاج: سب سے زیادہ راضی رکھنے والا کون تھا‘ سعید: اس کو وہی جانتا ہے جو دل کے بھید وں اور چھپے ہوئے رازوں سے واقف ہے‘ حجاج: حضرت علی ؓجنت میں ہیں یا دوزخ میں‘سعید: اگر میں جنت اور جہنم میں جاؤں اور وہاں والوں کو دیکھ لوں تو بتا سکتا ہوں‘حجاج: میں قیامت میں کیسا آدمی ہوں گا‘ سعید:میں اس سے کم ہوں کہ غیب پر مطلع کیا جاؤں‘حجاج: تو مجھ سے سچ بولنے کا ارادہ نہیں کر تا‘ سعید: میں نے جھوٹ بھی نہیں کہا‘ حجا ج: تو کبھی ہنستا کیوں نہیں‘سعید: کوئی بات ہنسنے کی دیکھتا نہیں اور وہ شخص کیا ہنسے جو مٹی سے بنا ہو اور قیامت میں اس کو جانا ہو اور دنیا کے فتنوں میں دن رات رہتا ہو‘ حجاج: میں تو ہنستا ہوں‘ سعید: اللہ نے ایسے ہی مختلف طریقوں میں ہم کو بنایا ہے‘ حجاج: میں تجھے قتل کرنے والا ہوں‘سعید: میری موت کا سبب پیدا کرنے والا اپنے کام سے فارغ ہو چکا‘حجاج: میں اللہ کے نزدیک تجھ سے زیادہ محبوب ہوں‘ سعید: اللہ پر کوئی بھی جرات نہیں کر سکتا‘جب تک کہ اپنا مرتبہ معلوم نہ کر لے اور غیب کی اللہ ہی کو خبر ہے‘ حجاج: میں کیوں جرات نہیں کر سکتا حالانکہ میں جماعت کے بادشاہ کے ساتھ ہوں اور تو باغیوں کی جماعت کے ساتھ ہے‘ سعید: میں جماعت سے علیحدہ نہیں ہون اور فتنہ کو خود ہی پسند نہیں کر تا اور جو تقدیر میں ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا‘ حجاج: ہم جو کچھ امیر المومنین کے لئے جمع کر تے ہیں اس کو تو کیسا سمجھتا ہے‘ سعید: میں نہیں جا نتا کہ کیا جمع کیا‘ حجاج نے سونا چاندی کپڑے وغیرہ منگا کر ان کے سامنے رکھ دئیے‘ سعید: یہ اچھی چیزیں ہیں اگر اپنی شرط کے موافق ہوں‘ حجاج: شرط کیا ہے‘ سعید: یہ کہ تو ان سے ایسی چیزیں خریدے جو بڑے گھبراہٹ کے دن یعنی قیامت کے دن امن پیدا کر نے والی ہوں ورنہ ہر دودھ پلانے والی دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور حمل گر جائیں گے اور آدمی کو اچھی چیز کے سوا کچھ بھی کام نہ دے گی‘ حجاج: ہم نے جو جمع کیا یہ اچھی چیز نہیں‘ سعید: تو نے جمع کیا تو ہی اس کی اچھائی کو سمجھ سکتا ہے‘ حجاج: کیا تو اس میں سے کوئی چیز اپنے لئے پسند کر تا ہے‘ سعید: میں صرف اس چیز کو پسند کر تا ہوں جس کو اللہ پسند کرے‘ حجاج: تیرے لئے ہلاکت ہو‘سعید: ہلاکت اس شخص کے لئے ہے جو جنت سے ہٹا کر جہنم میں داخل کر دیا جائے‘ حجاج (دق ہو کر) بتلا کہ میں تجھے کس طریقہ سے قتل کروں‘سعید: جس طرح سے قتل ہونا اپنے لئے پسند ہو‘حجاج: کیا تجھے معاف کردوں‘سعید: معافی اللہ کے یہاں کی معافی ہے‘ تیرا معاف کرنا کوئی چیز بھی نہیں‘ حجاج نے جلاد کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دو‘ سعید باہر لائے گئے اور ہنسے‘حجاج کو اس کی اطلاع دی گئی پھر بلایا اور پوچھا‘ تو کیوں ہنسا‘سعید: تیری اللہ پر جرات اور اللہ تعالیٰ کے تجھ پر حلم سے‘ حجاج: میں اس کو قتل کر تا ہوں جس نے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق کی‘پھر جلاد سے خطاب کرکے کہا‘میرے سامنے اس کی گردن اڑاؤ‘سعید: میں دو رکعت نماز پڑھ لوں‘ نماز پڑھی پھر قبلہ رخ ہو کرپڑھا (ترجمہ) میں نے اپنا منہ اس پاک ذات کی طرف کیا جس نے آسمان زمین بنائے اور میں سب طرف سے ہٹ کر ادھر متوجہ ہوا اور نہیں ہوں مشرکین میں سے‘حجاج: اس کا منہ قبلہ سے پھیر دو اور نصاریٰ کے قبلہ کی طرف کر دو کہ انہوں نے بھی اپنے دین میں تفریق کی اور اختلاف پیدا کیا چنانچہ فوراً پھیر دیا گیا‘ جدھر تم منہ پھیر و ادھر بھی خدا ہے جو بھیدوں کا جاننے والا ہے‘ حجاج: اوندھا ڈال دو (یعنی زمین کی طرف منہ کر دو) ہم تو ظاہر پر عمل کرنے کے ذمہ دار ہیں‘ سعید: ہم نے زمین ہی سے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ اٹھائیں گے‘ حجاج: اس کو قتل کر دو‘ سعید: میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں‘تو اس کو محفوظ رکھنا‘ جب میں تجھ سے قیامت کے دن ملوں گا تو لے لوں گا‘ اس کے بعد وہ شہید کر دئیے گئے‘ (انا للہ ونا الیہ راجعون) ان کے انتقال کے بعد بدن سے خون بہت زیادہ نکلا جس سے حجاج کو بھی حیرت ہوئی‘اپنے طبیب سے اس کی وجہ پوچھی اس نے کہا کہ ان کا دل نہایت مطمئن تھا اور قتل کا ذرا بھی خوف ان کے دل میں نہیں ھا‘ اس لئے خون اپنی اصلی مقدار پر قائم رہا‘ بخلاف اور لوگوں کے کہ خوف سے ان کا خون ہپلے ہی خشک ہو جاتا ہے‘(ف) اس قصہ کے سوال جواب میں کتب میں کمی زیادتی بھی ہے اور بھی بعض سوال جواب نقل کئے گئے‘ہمیں تو نمونہ ہی دکھانا تھا اس لئے اس پر اکتفاء کیا گیا‘تابعین کے اس قسم کے قصے بہت زیادہ ہیں‘حضرت امام اعظم ؒ‘امام مالک ؒ‘امام احمد بن حنبل ؒ وغیرہ حضرات اسی حق گوئی کی وجہ سے ہمیشہ مشقیں برداشت فرماتے رہے‘لیکن حق کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔(کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں