حضرت اُم زیاد ؓ کی چند عورتوں کے ساتھ خیبر میں شرکت

حضور اقدس ﷺ کے زمانہ میں مردوں کو تو جہاد کی شرکت کا شوق تھا ہی جس کے واقعات کثرت سے نقل کئے جاتے ہیں‘عورتیں بھی اس چیز میں مردوں سے پیچھے نہیں تھیں‘ہمیشہ مشتاق رہتی تھیں اور جہاں موقع مل جا تا پہنچ جا تیں‘اُم زیاد ؓ کہتی ہیں کہ خیبر کی لڑائی میں ہم چھ عودرتیں جہاد میں شرکت کیلئے چل دیں‘حضور اقدس ﷺ کو اطلاع ملی تو ہم کو بلایا‘حضور ؐ کے چہرہ انور پر غصہ کے آثار تھے‘ ارشاد فرمایا کہ تم کس کی اجازت سے آئیں اور کس کے ساتھ آئیں‘ ہم نے عرض کیا‘ یا رسول اللہ ہم کو اُون بننا آ تا ہے اور جہاد میں اس کی ضرورت پڑتی ہے‘ زخموں کی دوائیں بھی ہمارے پاس ہیں اور کچھ نہیں تو مجاہدین کو تیر ہی پکڑانے میں مدد دیں گی اور جو بیمار ہو گا اس کی دوا دارو کی مدد ہو سکے گی‘ ستو وغیرہ گھولنے اور پلانے میں کام دے دیں گی‘حضور ؐنے ٹھہر جانے کی اجازت دیدی‘(ف) حق تعالیٰ شانہ ُ نے اس وقت عورتوں میں بھی کچھ ایسا ولولہ اور جرات پیدا فرمائی تھی جو آجکل مردوں میں بھی نہیں ہے‘دیکھئے یہ ب اپنے شوق سے خود ہی پہنچ گئیں اور کتنے کام اپنے کرنے کے تجویز کر لئے‘ حنین کی لڑائی میں اُم سلیم ؓ باوجود یکہ حاملہ تھیں‘عبداللہ بن ابی طلحہ ؓپیٹ میں تھے‘شریک ہوئیں اور ایک خنجر ساتھ لئے رہتی تھیں‘حضور ؐنے فرمایا‘یہ کس لئے ہے‘عرض کیا ہک اگر کوئی کافر میرے پاس آئے گا تو اس کے پیٹ میں پھونک دوں گی‘اس سے پہلے اُحد وغیرہ کی لڑائی میں بھی یہ شریک ہوئی تھیں‘ زخمیوں کی دوا دارو اور بیماروں کی خدمت کر تی تھیں‘حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓاور اُم سلیم ؓکو دیکھا کہ نہایت مستعدی سے مشک بھر کر لا تی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور جب خالی ہو جا تی تو پھر بھر لا تیں۔(کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں