حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا مجموعہ کو جلا دینا

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے باپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پانچ سو احادیث کا ایک ذخیرہ جمع کیا تھا‘ ایک رات میں نے دیکھا کہ وہ نہایت بے چین ہیں‘کروٹیں بدل رہے ہیں‘مجھے یہ حالت دیکھ کر بے چینی ہوئی‘دریافت کیا کہ کوئی تکلیف ہے یا کوئی فکر کی بات سننے میں آئی ہے‘غرض تمام رات اسی بے چینی میں گذری اور صبح کو فرمایا کہ وہ احادیث جو میں نے تیرے پاس رکھوا رکھی ہیں‘ اٹھالا‘ میں لے کر آئی‘آپ نے ان کو جلا دیا‘ میں نے پوچھا کہ کیوں جلا دیا‘ ارشاد فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں مر جاؤں اور یہ میرے پاس ہوں ان میں دوسروں کی سنی ہوئی روایتیں بھی ہیں کہ میں نے معتبر سمجھا ہو اور واقع میں وہ معتبر نہ ہوں اور اس کی روایت میں کوئی گڑ بڑ ہو جس کا وبال مجھ پر ہو‘(ف) حضرت ابوبکر صدیق ؓکا یہ تو علمی کمال اور شغف تھا کہ انہوں نے پانچ سو احادیث کا ایک رسالہ جمع کیا اور اس کے بعد اس کو جلا دینا یہ کمال احتیاط تھا‘ اکابر صحابہ ؓ کا حدیث کے بارے میں احتیاط کا یہی حال تھا‘ اسی وجہ سے اکثر صحابہ ؓسے بہت کم روایتیں نقل کی جا تی ہیں‘ ہم لوگوں کو اس واقعہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے جو ممبروں پر بیٹھ کر بے دھڑک احادیث نقل کر دیتے ہیں‘حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓہر وقت کے حاضر باش‘ سفر حضر کے ساتھی‘ہجرت کے رفیق‘ صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم میں بڑے عالم حضرت ابو بکر ؓتھے‘ حضر ت عمر ؓفرماتے ہیں کہ حضور ؐ کے وصال کے بعد جب بیعت کا قصہ پیش آیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تقریر فرمائی تو کوئی آیت اور کوئی حدیث ایسی نہیں چھوڑ ی جس میں انصار کی فضیلت آئی ہو اور حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی تقریر میں نہ فرما دی ہو‘اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ قرآن پاک پر کتنا عبور تھا اور احادیث کس قدر یاد تھیں مگر پھر بھی بہت کم روایتیں حدیث کی آپ سے منقول ہیں‘ یہی راز ہے کہ حضرت امام اعظم ؒسے بھی حدیث کی روایتیں بہت کم نقل کی گئی ہیں۔ (کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں