تبلیغ حضرت مصعب بن عمیر ؓ

مصعب بن عمیر ؓجن کا ایک قصہ ساتویں باب کے نمبر5پر بھی گذر چکا ہے ان کو حضور اقدس ﷺ نے مدینہ منورہ کی اس جماعت کے ساتھ جو سب سے پہلے منیٰ کی گھاٹی میں مسلمان ہوئی تھی‘تعلیم اور دین کے سکھانے کے لئے بھیج دیا تھا‘ یہ مدینہ طیبہ میں ہر وقت تعلیم اور تبلیغ میں مشغول رہتے‘ لوگوں کو قرآن شر یف پڑھاتے اور دین کی باتیں سکھاتے تھے‘ اسعد بن زرارہ ؓ کے پاس ان کا قیام تھا اور مقرئی (پڑھانے والا‘مدرس) کے نام سے مشہور ہو گئے تھے‘ سعد بن معاذ ؓ اور اسید بن حضیر ؓ یہ دونوں سرداروں میں تھے‘ ان کو یہ بات ناگوار ہوئی‘ سعد نے اسید سے کہا کہ تم اسعد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم نے یہ سنا ہے کہ تم کسی پر دیسی کو اپنے ساتھ لے آئے ہو جو ہمارے ضعیف لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے‘ بہکاتا ہے‘ وہ اسعد کے پاس گئے اور ان سے سختی سے یہ گفتگو کی‘ اسعد ؓ نے کہا کہ تم ان کی بات سن لو‘ اگر تمہیں پسند آئے قبول کر لو‘اگر سننے کے بعد نا پسند ہو تو روکنے کا مضائقہ نہیں‘ اسید نے کہا کہ یہ انصاف کی بات ہے‘ سننے لگے‘ حضرت مصعب ؓ نے اسلام کی خوبیاں سنائیں اور کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کیں‘ حضرت اسید ؓ نے کہا کیا ہی اچھی باتیں ہیں اور کیا بہتر کلام ہے‘ جب تم اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے ہو تو کس طرح داخل کرتے ہو‘ ان لوگوں نے کہا تم نہاؤ‘ پاک کپڑے پہنو اور کلمہ شہادت پڑھو‘حضرت اسید ؓ نے اسی وقت سب کام کئے اور مسلمان ہو گئے‘ اس کے بعد یہ سعد کے پاس گئے اور ان کو بھی اپنے ہمراہ لائے‘ان سے بھی یہی گفتگو ہوئی‘سعد ؓ بن معاذ بھی مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہو تے ہی اپنی قوم بنو الاشہل کے پاس گئے‘ ان سے جا کر کہا کہ میں تم لوگوں کی نگاہ میں کیسا آدمی ہوں‘ انہوں نے کہا کہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہو‘ اس پر سعد نے کا کہ مجھے تمہارے مردوں اور عورتوں سے کلام حرام ہے جب تک تم مسلمان نہ ہو جاؤ اور محمد ﷺ پر ایمان نہ لے آؤ‘ان کے اس کہنے سے قبیلہ اشہل کے سب مرد عورت مسلمان ہو گئے اور حضرت مصعب ؓ ان کو تعلیم دینے میں مشغول ہو گئے‘(ف) صحابہ کرام ؓ کا یہ عام دستور تھا کہ جو شخص بھی مسلمان ہو جاتا وہ مستقل ایک مبلغ ہو تا اور جو بات اسلام کی اس کو آ تی تھی اس کا پھیلانا اور دوسروں تک پہنچانا اس کی زندگی کا ایک مستقل کام تھا جس میں نہ کھیتی مانع تھی نہ تجارت نہ پیشہ نہ ملازمت۔ (کتاب۔ فضائل اعمال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں