نیوزی لینڈ: عام انتخابات میں لیبر پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب!

ویلنگٹن(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈا ٹ کام)نیوزی لینڈ کے عام انتخابات میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی بائیں بازوں کی لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ مینڈیٹ کا مطلب ہے کہ 40 سالہ جیسنڈا آرڈرن کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ سنگل پارٹی کی حکومت تشکیل دے سکتی ہیں اور انہیں ترقی پسند تبدیلی کی فراہمی کے چیلینج کا سامنا کرنا پڑے گا

جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔صباح نیوز کے مطابق ویلنگٹن میں وکٹوریہ یونیورسٹی کے سیاسی مبصر برائس ایڈورڈز نے 80 برس کی نیوزی لینڈ کی انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے’۔لیبر پارٹی کو ملک کی ایک ہی پارلیمنٹ کی 120 میں سے 64 نشستوں پر کامیابی حاصل تھی،اگر پارٹی لیبر آدھی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی ہیں تو جیسنڈا آرڈرن موجودہ نظام کے تحت سنگل پارٹی حکومت تشکیل دے سکیں گی۔جیسنڈا آرڈرن اپنے گھر سے باہر نکلی اور ہاتھ لہرا کر حامیوں کو مبارکباد دی اور انہیں گلے لگایا۔

اپوزیشن نیشنل پارٹی کی رہنما جوڈتھ کولنز نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو کہا کہ وہ انہیں ‘شاندار نتائج’ کے لیے مبارکباد دیں۔انتخابی کمیشن نے کہا کہ لیبر پارٹی کے پاس 49 فیصد ووٹ تھے جو کہ نیشنل پارٹی کے 27 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہے۔انتخابی کمیشن نے کہا کہ 77فیصد بیلٹ کی گنتی کرلی گئی جو دراصل آرڈرن کے کوویڈ 19 کے جارحانہ انتظام سے متعلق ریفرنڈم تھا۔

وزارت محنت کے وزیر خزانہ گرانٹ رابرٹسن نے کہا کہ لوگ کوویڈ 19 سے نبردآزما ہونے کے طریقہ کار پر بہت خوش تھے اور بہت خوش ہیں۔سیاسی ویب سائٹ ڈیموکریسی پروجیکٹ کے تجزیہ کار جیفری ملر نے کہا کہ یہ جیت دراصل جیسنڈا آرڈن کی ‘سپر اسٹار’ مقبولیت اور برانڈ کے لیے ایک بہت بڑی ذاتی فتح ہے۔خیال رہے کہ نیوزلینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ برس کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی تھی

۔Sahafe.com.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں