تجارت اور ترقی کیلئے۔۔۔۔۔! شاہ محمود قریشی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان 2.7 ملین افغان مہاجرین کو پناہ دئے ہوئے ہے، پاکستان صرف قانونی نقل مکانی کا حامی ہے،ہم خطے میں امن اور استحکام پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں،تجارت اور ترقی کے لئے رابطوں کی استواری خشت اول ہے، سی پیک علاقائی ترقی، شرح نمو میں اضافے اور خوشحالی کا مثالی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، سی پیک روٹ کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز میں دولت مشترکہ کی شراکت داری کا خیرمقدم کریں گے، پائیدار ترقی کے لئے 2030 ایجنڈا کے لئے ہم پختہ عزم پر کاربند ہیں، پاکستان نے سیاسی اور فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں،قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا صوبے میں ضم کرکے مرکزی دھارے میں سمو دیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے دولت مشترکہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں دولت مشترکہ کے اس غیر معمولی اجلاس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،مجھے توقع ہے کہ اس اجلاس کے نتیجے میں کامن ویلتھ فورم کو مزید بہتر،نتیجہ خیز اور فعال بنانے میں مدد ملے گی،میں 2018 کے اجلاس میں طے کئے گئے اہداف کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات سے مختصرا آگاہ کرنا چاہوں گا2008 میں دولت مشترکہ کی رکنیت کی بحالی پر پاکستان نے بہت سے مثبت اور دیرپا اقدامات کیے ہیں جولائی 2018 میں پاکستان میں تیسرے جنرل الیکشنز کا انعقاد کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک سول حکومت نے اپنے پانچ سال مکمل کرنے کے بعد دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیاان انتخابات کو یورپین یونین اور کامن ویلتھ کے مانیٹرز نے آزادانہ اور شفاف قرار دیا۔ا نہوں نے کہاپاکستان میں دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلے میں حقیقی جمہوریت موجود ہے،خواتین کی نمائندگی سول سروس، قانون اور دیگر تمام شعبہ جات میں خاصی بڑھی ہے،پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی خاصی زیادہ ہے قومی اسمبلی میں 68 جبکہ سینٹ میں 18 منتخب خواتین موجود ہیں ہماری صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی تعداد 139 ہے جو کہ خاصی معقول تعداد ہے،ہمارے ہاں خواتین کی عفت و ناموس کی حفاظت کے لیے موثر قوانین ہیں، ہم نے اس سلسلے میں خواتین کو ہراساں ہونے سے بچانے کے لئے اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سیاسپیشل کمیشن بنانے ہیں جو ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں ہم نے اقلیتوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے 5فیصد خصوصی کوٹہ مختص کیا ہوا ہے 11 اگست کو اقلیتوں کے دن کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان 2.7 ملین افغان مہاجرین کو پناہ دئے ہوئے ہے جو کہ مہاجرین کے حوالے سے دنیا بھر میں بہت بڑا نمبر ہے جہاں تک ایک ملک سے دوسرے ملک کے مابین نقل مکانی کا تعلق ہے تو میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان صرف قانونی نقل مکانی کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا ہم بڑھتی ہوئی درآمدی حوصلہ شکنی کے ماحول میں تجارت، سرمایہ کاری، تخلیق اور رابطے پر یقین رکھتے ہیں،ہماری پالیسیوں کا محور عوام ہیں۔ ہم خطے میں امن اور استحکام پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت سرمایہ کار دوست اور کاروبار میں آسانی کا ماحول فراہم کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔انہوں نے کہا بیس کروڑ سے زائد افراد کی مارکیٹ کے ساتھ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے جس میں 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہنرمند افرادی قوت کے خزانے کے طورپر دستیاب ہے۔ تجارت اور ترقی کے لئے رابطوں کی استواری خشت اول ہے، دولت مشترکہ کو باہم جوڑنے کا ایجنڈا اس مسلمہ ضرورت کا اعتراف ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)علاقائی ترقی، شرح نمو میں اضافے اور خوشحالی کا مثالی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا سی پیک روٹ کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز میں دولت مشترکہ کی شراکت داری کا خیرمقدم کریں گے۔ نوجوانوں کی بہتری کے لئے قومی یوتھ کونسل قائم کی گئی ہے جس میں خصوصی پروگرام کے ذریعے آسان شرائط پر قرض دئیے گئے ہیں تاکہ نوجوان کاربار شروع کرسکیں اور ہنرمندی کو فروغ دیں۔ پائیدار ترقی کے لئے 2030 ایجنڈا کے لئے ہم پختہ عزم پر کاربند ہیں۔ہماری قومی پالیسیاں اور حکمت ہائے عملی کی ازسرنوترجیحات کا تعین کرکے ا نہیں اس ایجنڈے سے ہم آہنگ کیاگیا ہے۔ غربت ختم کرنے کا عظیم پروگرام احساس کے عنوان سے شروع کیاگیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں کمزور طبقات کی مدد اور افرادی قوت کی ترقی ہے۔ صحت عامہ کا ہمہ گیر صحت سہولت پروگرام بھی اس سال شروع کیاگیا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم کیاجاسکے۔ ماحولیاتی تغیر کے ضمن میں لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان نے بیلن ٹری شجرکاری منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا ہے جس میں ساڑھے تین لاکھ ہیکٹر رقبہ پر شجرکاری کی گئی ہے۔ اس کامیابی کو مزید تقویت دینے کے لئے دس ارب درخت کا ہدف مقرر کیاگیا ہے جو پانچ سال میں پورا کیاجائے گا۔ فضلے اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے ہم نے کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام شروع کیا ہے۔ پانی کی قلت کے شکار ملک کے طورپر پاکستان نے منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ پانی کے باکفایت استعمال کو یقینی بنایا جاسکے اور زیرزمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرا جاسکے۔ پاکستان نے سیاسی اور فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دہشت گردی کے قلع کمع اور انتہاپسندی کی لہر کو شکست دینے کے لئے بیس نکات پر مبنی قومی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر فاٹا کے نام سے معروف قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا صوبے میں ضم کرکے مرکزی دھارے میں سمو دیا گیا ہے۔پہلی مرتبہ سابقہ فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی سولہ اضافی نشستوں کے لئے انتخابات 20 جولائی 2019کو ہورہے ہیں۔ اس علاقے کی سماجی واقتصادی ترقی کے لئے 152 ارب روپے کی خطیر رقم رواں بجٹ میں خاص طورپر مختص کی گئی ہے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لئے قومی پالیسی کے تحت دہشت گردسوچ اجاگر کرنے اور پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا پرنفرت پھیلانے پر نگرانی کا نظام وضع کیاگیا ہے جو سیاسی اور شہری حقوق کے لئے عالمی معاہدہ (آئی سی سی پی آر)کے مطابق ہے۔ مالیاتی سقم (منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت)کی پڑتال کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے 2018کے عام انتخابات میں کرپشن کی لعنت سے نمٹنے کا واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ ہم اس کاوش میں بین الاقوامی برادری کی حمایت کے خواہاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں