بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ جان کر مسلمان احتجاج کرنے لگ جائینگے

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام)بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کیمتنازعہ زمین ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو تین ما ہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بابری مسجد کی زمین مرکز کے پاس رہے گی۔صباح نیوز کے مطابق عدالت نے قراردیا کے مسلمانوں کو ایودھیا میں بابری مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ متباد ل جگہ دی جائے۔بھارتی سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ جبکہ عدالت نے شیعہ وقف بورڈٖ املاک کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا تھا کہ پانچ رکنی بینچ کا بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔بینچ میں ایک مسلمان جج جسٹس ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی کہتے ہیں، جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ عقیدے کی بنیاد پر حق ملکیت طے نہیں ہو گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی۔ مسجد کے نیچے غیر اسلامی عمارتی ڈھانچہ موجود تھا۔عدالت کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے کبھی بھی بابری مسجد پر قبضہ نہیں کھویا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ واضح نہیں کہ مندر کو منہدم کیا گیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 1856تک بابری مسجد کی جگہ پر باقاعدگی سے ادائیگی نماز کے ثبوت نہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ مسجد کے اندرونی حصوں میں ادائیگی نماز کا ثبوت نہ دے سکا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہندؤں کو بابری مسجد کی 2.77ایکڑ اراضی دی جائے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھارتی حکومت کی نگرانی میں مسجد کی جگہ مندر بنے گا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں بھارتی حکومت بورڈ تشکیل دے کر اسکیم تیار کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیا رام کی جنم بھومی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مسلمان اور ہندو دونوں بابری مسجد کو مذہبی مقام مانتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے لئے مناسب نہیں کہ وہ عقیدے پر بات کرے۔عدالت کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تما م مذہبی برادریوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 16اکتوبرکو بابری مسجد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ واضح رہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندؤں نے6 دسمبر 1992کو بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ جس کے بعد بھارت میں پھوٹنے والے فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں