امریکی معیشت کا بیڑا غرق، ٹرمپ ذمہ دار قرار، بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر، حکومتی اعداو شمارجاری

واشنگٹن(مانیٹرنگ نیوز‘ ویب ڈیسک‘ صحافی ڈا ٹ کام) امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 30ستمبر 2020کو ختم ہونے والے مالی سال میں فیڈرل بجٹ کا خسارہ 3100ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ بجٹ خسارہ بھی ہے۔واضح رہے کہ امریکی معیشت کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ خسارے والی معیشت بھی قرار دیا جاتا ہے۔

آئی این پی کے مطابق تاہم اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے امریکی معیشت کا خسارہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوگیا جس کے نتیجے میں امریکی معیشت مجموعی طور پر گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.2فیصد سکڑ چکی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال فروری میں تخمینہ لگایا تھا کہ فیڈرل بجٹ کا خسارہ 984 ارب ڈالر رہے گا لیکن اندازوں کے مقابلے میں یہ خسارہ تین گنا سے بھی زیادہ ہو کر 3.1 ٹریلین ڈالر (3100ارب ڈالر)پر پہنچ گیا۔یہ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بعد 1.4 ٹریلین ڈالر خسارے کے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔2019 تا 2020 کے مالی سال میں امریکی حکومت کی آمدن پچھلے سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد کم ہو کر 3.42 ٹریلین ڈالر رہی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اخراجات 47.3 فیصد اضافے کے ساتھ 6.55 ٹریلین ڈالر رہے۔

ان اخراجات کا بیشتر حصہ کانگریس کے منظور کردہ ہنگامی اقدامات کی مد میں صرف ہوا جو کورونا وبا سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کیلیے کیے گئے تھے۔بتاتے چلیں کہ امریکا میں کورونا وبا سے مارچ اور اپریل کے دو مہینوں میں تقریبا سوا دو کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے تھے جن میں سے اب تک صرف ایک کروڑ لوگوں کا روزگار ہی بحال کیا جاسکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں