اسلامو فوبیا، کینیڈا میں ٹرک ڈرائیور نے پاکستانی خاندان کو کچل دیا‘ 4افراد جاں بحق،بچہ زخمی‘ کینیڈا کے وزیرا عظم کا اظہار افسوس!

ٹورنٹو(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘صحافی ڈاٹ کام) کینیڈا میں ٹرک ڈرائیور نے پاکستانی مسلم خاندان کو کچل دیا، حملے میں چار افراد جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوگیا، پولیس نے کہا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے مسلم فیملی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے جنوب میں ایک شخص نے ایک پک اپ ٹرک چلاتے ہوئے ایک پاکستانی مسلمان کنبے کے چار افراد کو ٹکرایا اور اسے ہلاک کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک حملہ نفرت سے متاثر ہوا تھا۔آئی این پی کے مطابق کینیڈا کی پولیس نے بتایا ہے کہ ایک کار روکنے کے بعد ہلاک ہونے والے چار افراد کو اسلام کے خلاف نفرت انگیز جرم میں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ پال ویٹ نے صحافیوں کو بتایا یہ پہلے سے منصوبہ بند اور پیش پیش تھا اور اسی وجہ سے پہلے ڈگری قتل کے الزامات عائد کردیئے گئے تھے۔ ویٹ نے کہا، اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ نفرت سے متاثر ہوا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان متاثرین کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ ویٹ نے بتایا کہ ٹورنٹو سے 200 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع لندن میں پولیس دہشت گردی کے امکانی الزامات داخل کرنے پر رائل ماونٹڈ کینیڈا کی پولیس سے رابطہ کر رہی ہے۔ کینیڈا کے ایک شخص ناتھنیل ویلٹ مین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ 20 سالہ ملزم لندن، اونٹاریو کے چوراہے کراس واک سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مال میں گرفتار ہوا تھا جہاں یہ واقعہ ہوا تھا،

اور اس پر قتل کے جرم اور قتل کی کوشش کی اکا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہلاکت کی خبروں سے خوفزدہ ہیں۔ جسٹن ٹروڈو نے ٹویٹ کیا، لندن میں مسلم کمیونٹی اور پورے ملک کے مسلمانوں کے لئے جان لو کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری کسی بھی جماعت میں اسلامو فوبیا کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ نفرت کپٹی اور حقیر ہے اور اسے روکنا بھی چاہئے۔ پولیس نے بتایا کہ ایک 74 سالہ خاتون جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گئیں، ایک 46 سالہ مرد، ایک 44 سالہ خاتون اور ایک 15 سالہ خاتون اسپتال لے جانے کے بعد دم توڑ گئی۔ ایک نو سالہ لڑکا بچ گیا اور وہ شدید زخموں سے اسپتال میں ہے۔

لندن کے میئر ایڈ ہولڈر نے پولیس کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقدہ ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا، ہم اس خاندان کے غم شریک ہیں، جن میں سے تین نسلیں اب مر چکی ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا واقعہ تھا، مسلمانوں کے خلاف، لندن والوں کے خلاف، اور ناقابل بیان نفرت کی جڑ۔ یہ حملہ کینیڈا کے مسلمانوں کے خلاف بدترین تھا جب سے ایک شخص نے سن 2017 میں کیوبیک سٹی کی ایک مسجد کے چھ ارکان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

Sahafe.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں