وفاقی بجٹ کے خدوخال!!!!جو ہر کوئی جاننا چاہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ نیوز‘صحافی ڈاٹ کام‘ ویب ڈیسک) مالی سال 2018-19ء کے لئے بجٹ کا کل تخمینہ 7,022 ارب روپے ہے جوگذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے،صباح نیوز کے مطابق وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6,717 ارب روپے ہے جوگذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 19 فیصدزیادہ ہے،3,255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کوجائیں گے،مالی سال 2019-20ء کیلئے مجموعی مالی خسارہ 3,137 ارپ یا جی ڈی پی کے 7.1 فیصد ہوگا۔منگل کوقومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے ریونیوحماداظہر نے کہاکہ مالی سال 2018-19ء کے لئے بجٹ کا کل تخمینہ 7,022 ارب روپے ہے جوکہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ5,385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20 کیلئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6,717 ارب روپے ہے جوکہ 2018-19ء کے 5,661 ا رب روپے کے مقابلے میں 19 فیصدزیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذریعے 5,555 ارب آمدن متوقع ہے جس کے مطابق 12.6 GDP Tax to Ratio فیصد ہے۔ وفاقی ریونیو کولیکشن میں سے 3,255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کوجائیں گے جو کہ موجودہ سال کے 2,465 ارب روپے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20ء کیلئے نیٹ فیڈرل ریونیوز کی مد میں 3,462 ارپ روپے کاتخمینہ ہے جوکہ جاری مالی سال کے 3,070 ارب روپے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح وفاقی بجٹ خسارہ 3,560 ارب روپے ہوگا۔ مالی سال 2019-20 کیلئے صوبائی سرپلس کا تخمینہ 423 ارب روپے ہے۔ مالی سال 2019-20ء کیلئے مجموعی مالی خسارہ 3,137 ارپ یا جی ڈی پی کے 7.1 فیصد ہوگا جوکہ 2018-19ء کے مالی سال میں جی ڈی پی کے 7.2 فیصد پر تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں