وزیراعظم نے اپوزیشن کے بارے میں پھر بڑا بیان دیدیا!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ویب ڈیسک‘ صحافی ڈاٹ کام) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں پر رحم اور انہیں معاف نہیں کرسکتا کیونکہ این آر او دے دے کر معاشرے کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمتہ اللعالمین ﷺ کانفرنس ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رستے میں مافیا بیٹھے ہیں، سیاست، میڈیا اور بیوروکریسی میں یہ لوگ بیٹھے ہیں، ہم جدوجہد کرکے اس مافیا کو شکست دیں گے۔عمران خان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مجھ میں رحم نہیں اور مجھے چاہیے کہ جن بدعنوانوں نے ملک کو قرضوں میں ڈبو کر کنگال کردیا انہیں معاف کردوں، لیکن انہیں معاف کرنا اور ان پر رحم کرنا میرا کام نہیں، کرپٹ لوگوں نے میرے نہیں قوم کے پیسے چوری کئے ہیں، این آر او دے دے کر ہم نے معاشرہ کا بیڑہ غرق کردیا ہے، رحم کمزور اور غریب طبقے کے لیے ہوتا ہے، بڑے ڈاکوں پر رحم نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے بھی کرپٹ لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ دنیا میں رول ماڈلز ڈھونڈتے ہیں، اسکول میں مجھے کبھی نہیں سکھایا گیا کہ ہمارے رول ماڈل نبی اکرمﷺہونے چاہئیں، ہماری تعلیم ہمیں نبی اکرمﷺ کی طرف نہیں لے کر گئیں، اسکول میں کوئی اور رول ماڈل تھے، فلمی اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو رول ماڈل سمجھا جاتا تھا، ہم تعلیمی نظام ٹھیک کریں گے اور آپﷺکی جدو جہد کا بتائیں گے، چاہتے ہیں بچے بچے کو علم ہو حضور اکرمﷺنے معاشرے کو کیسے تبدیل کیا، افسوس کی بات ہے ہمارے ہاں اس بارے میں نہیں پڑھایا جاتا، ہمیں اپنے بچوں کو تاریخ کا مطالعہ کرانا ہوگا، مسلمان گھر میں پیدا ہوکر مسلمان کہلانا کافی نہیں۔عمران خان نے کہا کہ الیکشن سے پہلے مدینہ کی ریاست بات اس لیے نہیں کی کہ لوگ کہتے ووٹ مانگنے کے لیے یہ باتیں کر رہا ہوں، اس لیے الیکشن جیتنے کے بعد مدینہ کی ریاست کی بات کی، میری زندگی کرکٹ کھیلتے ہوئے گزری، والدصاحب زبردستی جمعہ کی نماز پڑھنے لے جاتے تھے، میں نے اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا ہے، ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کا مقصد پیسہ کو بنانے سے انسان تباہ ہوجاتا ہے، پیسہ بنانا سب سے بڑی بت پرستی ہے، بڑاانسان اپنی ذات کیلئے زندگی نہیں گزارتا، نبی کریم ﷺ نے اپنی وراثت میں جائیدادیں نہیں چھوڑیں، زندگی موت، رزق اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست، وہ پہلے دن نہیں بن گئی تھی بلکہ طویل جدوجہد کا نام ہے، ہوسکتا ہے ہم اپنی زندگی میں اس تک نہ پہنچیں لیکن اس راستے پر چل پڑے ہیں، قوم ضرور پہنچے گی، ملک میں میرٹ ختم ہونا سب سے بڑی ناانصافی ہے، مدینہ کی ریاست میں سب سے اچھی چیز میرٹ تھی اور اسی سے مدینہ نے ترقی کی۔انھوں نے کہا کہ جتنے بڑے صوفی برصغیرمیں آئے وہ حضورﷺ کی سنت پرچل رہے تھے بڑے آدمی بن گئے۔ آج بھی لوگ صوفیا کرام کے مزاروں پر جاتے ہیں کیونکہ وہ نبی ﷺ کی سنت پرچل رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں